کراچی میں بجلی کے بریک ڈاؤن کا ذمہ دار کون؟

کراچی والے 48 گھنٹوں میں دوسری مرتبہ بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کا شکار ہوگئے، اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے موسم کی تبدیلی کو بھی بجلی کی فراہمی میں تعطل کی وجہ قرار دے دیا۔ کے الیکٹرک اور این ٹی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے کے باعث ٹرانسمیشن لائن میں  تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔


کراچی کے عوام شہر میں معمول کے برعکس ہونے والی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عادی تو ہیں ہی لیکن پچھلے چند دنوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ دیر رات اور علی الصبح ہوئی، جس وقت شہر میں موجود بیشتر کارخانے، دفاتر اور غیر ضروری لائٹس بند ہوتی ہیں۔ ایک ہفتے میں بجلی کا بریک ڈاؤن کئی مرتبہ ہوا لیکن یہ بجلی کی قلت کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹرانسمیشن سسٹم میں خرابی کے باعث تھا۔ بجلی کے بریک ڈاؤن کی خبر اس وقت تیزی سے پھیلی جب لگاتار دو دنوں میں آدھا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔

شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کئی کئی گھنٹے معطل رہی، جبکہ پانی کی عدم فراہمی کے باعث گھریلو کام بھی متاثر ہوئے کیونکہ بجلی سے چلنے والے پانی کے پمپز کا بوجھ یو پی ایس اور چھوٹے جنریٹرز نہیں اٹھا سکتے تھے۔ عوام کو اس بات پر بھی حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ بجلی کے بریک ڈاؤن سے 72 انچ پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی جس سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہوئی۔

بدھ 3 اکتوبر کو ہونیوالے بجلی کے بریک ڈاؤن سے شہر کے کچھ علاقوں میں 10 گھنٹے تک بجلی غائب رہی، یہاں تک کہ چھوٹے کاروباری اداروں نے اپنے نقصانات کے بارے میں شکایت بھی کی۔

اداروں کا مؤقف

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی میں بجلی کا بریک ڈاؤن صبح ساڑھے 6 بجے ہوا اور ادارے کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ (این ٹی ڈی سی) کمپنی سے روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والی 650 میگا واٹ بجلی نہیں مل سکی، جس کا براہ راست اثر شہر پر پڑا تاہم صبح 10 بجے تک بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق دی جانے لگی۔

لہٰذا کے الیکٹرک کے مطابق این ٹی ڈی سی بجلی کی فراہمی میں تعطل اور شہریوں کی پریشانی کا اصل ذمہ دار ہے۔

دوسری جانب این ٹی ڈی سی کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسئلے کو ایک گھنٹے یعنی صبح ساڑھے 7 بجے حل کر دیا تھا لیکن کے الیکٹرک نے 8 بجے کا وقت بتایا، بہرحال اس وقت کراچی شہر کو 421 میگا واٹ بجلی دی جا رہی تھی۔

این ٹی ڈی سی کہتی ہے کہ کراچی کو مجموعی طور پر 3000 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سے ہمارا ادارہ 650 میگا واٹ (یعنی 21 فیصد) بجلی فراہم کرتا ہے لہٰذا 650 میگا واٹ بجلی کی عدم فراہمی پورے شہر پر اثر نہیں ڈال سکتی۔

جمعرات 4 اکتوبر کو ہونے والا بجلی کا بریک ڈاؤن این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن میں خرابی کے باعث ہوا لیکن اس سے قبل ہونے والا بریک ڈاؤن کے الیکٹرک کے اپنے ٹرانسمیشن سسٹم میں خرابی کی وجہ سے ہوا۔

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہوا میں نمی کا تناسب 85 فیصد تک چلا گیا تھا جس سے کے الیکٹرک کے نیٹ ورک میں خرابی آئی، نتیجتاً شہر کے بیشتر فیڈرز ٹرپ کر گئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے سے ٹرانسمیشن میں خرابی آتی ہے لیکن اس سال یہ پہلے سے زیادہ ہوا ہے۔

کے الیکٹرک اور این ٹی ڈی سی دونوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز میں خرابی نمی کے باعث آئی، حالانکہ بعض ادارے کے الیکٹرک اور این ٹی ڈی سی کی وضاحت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

کراچی میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عبدالرشید کا کہنا ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہوا میں نمی کا تناسب معمول کے مطابق ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے، ان دنوں رات کے اوقات میں نمی کا تناسب 83 سے 84 فیصد تک رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب شہر میں بارش یا دھند پڑتی ہے تو نمی کا تناسب 100 فیصد ہو جاتا ہے لیکن تب بجلی کا بریک ڈاؤن نہیں ہوتا، کے الیکٹرک کا مسئلہ کچھ اور معلوم ہوتا ہے، ایسا سوچنے والا میں اکیلا نہیں۔

معروف ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کا خیال ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھی ہے لیکن کامیاب حکومتیں ٹرانسمیشن سسٹم بہتر بنانے میں ناکام نظر آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے لیکن ٹھیک سے صارفین تک نہیں پہنچ پاتی۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار پر توجہ مرکوز کرنا بے معنی ہے، جب تک حکومت سسٹم میں بجلی کی تقسیم درست نہیں کر لیتی اور یہ کام سب سے ضروری ہے۔

بجلی کی تقسیم سے متعلق سماء ڈیجیٹل کے سوال پر این ٹی ڈی سی کے ترجمان نے کہا کہ یہ بات غلط ہے، ہم روزانہ اپنے ٹرانسمیشن سسٹم پر کام کر رہے ہیں، ہمارے بڑے ٹاوروں میں سے 7 ٹاورز حب میں تبدیل ہونے والے ہیں، ابھی کچھ ٹاورز صرف پورٹ قاسم میں تبدیل کئے گئے ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ این ٹی ڈی ایس پچھلے دو سال میں اپنے 50 منصوبے مکمل کر چکا ہے جبکہ مزید 51 پر کام جاری ہے، یہ 40 سال پرانا سسٹم ہے، ہم فرسودہ لائنز کی شناخت کرکے ان کو تبدیل کر رہے ہیں جبکہ نئے نیٹ ورکس بھی لگا رہے ہیں، مثال کے طور پر حکومت مٹیاری تا لاہور 1.3 ارب ڈالر کی ٹرانسمیشن لائن بچھا رہی ہے۔

K ELECTRIC

NTDC

Tabool ads will show in this div