قصور کے نواحی دیہات میں زیر زمین پانی زہریلا ہوگیا

قصور کے دو نواحي ديہات کوٹ اسد اللہ اور چاہ کلالاں والا میں زير زمين پاني شہریوں کیلئے بيماريوں کا باعث بننے لگا۔


طبي ماہرين کے مطابق بيماريوں کي وجہ پاني ميں پايا جانے والا آرسينک اور فلورائيڈ ہے، جس کی وجہ سے یہ پانی پینے کے قابل نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادي کے اطراف موجود فيکٹریوں کی وجہ سے زیر زمین پانی آلودہ ہوتا ہے، یہ فیکٹریاں مضر صحت کيمیکل تلف کرنے کي بجائے زمين ميں ڈال رہي ہیں۔

ہڈیوں کے سرجن ڈاکٹر اشرف نظامی کہتے ہیں کہ زير زمين آلودہ پاني پينے سے معدے اور جلد کی بیماریاں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ہڈياں ٹيڑھي ہونا شروع ہوجاتي ہيں، جبکہ متاثرہ شخص زندگي بھر کیلئے محتاج بن جاتا ہے۔

متاثرہ بچي کي والدہ سائرہ بي بي کا کہنا ہے کہ میری بچی جب پیدا ہوئی تو ٹھیک تھی، بعد میں یہاں کا پانی پینے کی وجہ سے معذور ہوگئی، جناح اور چلڈرن اسپتال سمیت کئی اسپتالوں سے علاج کروایا مگر بیٹی ٹھیک نہیں ہوسکی۔

آٹھ سال پہلے انہي ديہات ميں اس طرح کے کيسز سامنے آئے تھے جس کے بعد فلاحي تنظيم نے ايک فلٹريشن پلانٹ لگوايا ليکن سرکاري سطح پر صاف پاني کي فراہمي کا کوئي منصوبہ دکھائي نہيں ديتا۔

HEALTH

Contaminated water

bones disease

Tabool ads will show in this div