سانحہ مستونگ،جاں بحق افرادکی نمازجنازہ وتدفین،رقت آمیزمناظر

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک:
کوئٹہ : سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والے 26 افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، تمام چھابیس افراد کو بہشت زینب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، نماز جنازہ کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے کو آئے، جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی، لوگ اپنے پیاروں کی جدائی اور المناک موت پر غم و بے بسی کی تصویر بنے نظر آئے۔

سانحہ مستونگ میں شہید افراد کو بہشت زینب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، اس موقع پر ہزاروں کا مجمعہ موجود تھا، بڑی تعداد میں لوگ اپنے پیاروں کو آخری سفر پر روانہ کرنے کیلئے موجود تھے، تدفین اور نماز جنازہ کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے کو آئے، جہاں لوگ اپنے پیاروں کی میتوں سے لپٹ لپٹ کر رو رہے تھے، اس موقع پر کچھ افراد نے جذباتی ہو کر نعرے بھی لگائے۔ نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،جب کہ علاقے کی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی بھی کی گئی۔ چار افراد کی تدفین ہزارہ قبرستان میں، جب کہ دیگر افراد کو بہشت زینب قبرستان میں آسودہ خاک کیا گیا۔

منگل کے روز دہشت گردوں نے ایران سے آنے والی زائرین کی بس پر خودکش حملہ کیا تھا جس میں انتیس افراد جاں بحق ہوئے ۔ واقعہ کیخلاف ورثا نے سخت سردی کے باوجود میتیں رکھ کر دو دن تک دھرنا دیئے رکھا، صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ہزارہ برادری نے جمعرات کی شب دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اڑتالیس گھنٹے سے زائد دھرنے میں ہزارہ برادری کے افراد میتیوں کے ہمراہ کوئٹہ کی علمدار روڈ پر کھلے آسمان تلے موجود رہے۔ دھرنے میں عورتیں، بچے،بوڑھے اور جوان تمام افراد موجود تھے۔ تمام افراد نے اپنے مطالبات کی منظوری اور قاتلوں کی گرفتاری سے متعلق اعلان تک دھرنا نہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف شہروں میں بھی دھرنا اور احتجاج کیا گیا۔ جس کے باعث مختلف شہروں میں ٹریفک جام اور اندرونی ملک پروازیں متاثر ہوئیں۔ سانحہ مستونگ میں 26 افراد جاں بحق، جب کہ 30 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں کئی افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ واقعہ کی ذمہ داری کالعدم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔

کوئٹہ کے علمدار روڑ پر میتوں کے ہمراہ دھرنا دینے والوں سے وفاقی وزیر داخلہ نے طویل مذاکرات کیے، جس کے بعد چودھری نثار نے مذاکرات کی کامیابی اور ہزارہ برادری کے رہنما نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو ہر صورت کٹہرے میں لایا جائے گا، اور ہزارہ برادری کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں گے۔

شہدائے سانحہ مستونگ کے لواحقین کو وفاقی وزرا کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد مجلس وحدت المسلمین نے ملک بھر میں جاری دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ وعدے پورے نہ ہوئے تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ سماء

conflict

honour

Tabool ads will show in this div