پی آئی اے کے 457 ملازمین کی ڈگری جعلی نکل آئی، رپورٹ

دس سال میں پی آئی اے کے طیارے چونتیس سے کم ہو کر بارہ رہ گئے۔ خسارہ بہتر ارب سے بڑھ کر تین سو ساٹھ ارب ہوگیا۔ پی آئی اے کی دس سالہ خصوصی آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی۔ لاجواب سروس کے چار سو ستاون ملازمین اور افسران جعلی ڈگریوں کے حامل نکلے۔

سپریم کورٹ میں پی آئی اے کرپشن کیس کی سماعت کے دوران قومی ائیرلائن کی دس سالہ آڈٹ رپورٹ پیش کر دی گئی۔ رپورٹ میں پی آئی اے کا خسارہ 360 ارب تک پہنچنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ ہینڈلنگ سروس آؤٹ سورس کرنے سے 117 ارب، فیول منیجمنٹ نہ کرنے سے 460 ارب، سائبر نامی سافٹ وئیر کی خریداری سے ساڑھے پانچ ارب نقصان ہوا۔

سفارشی انجینئیرز غیرضروری مرمت کے نام پر 31 ارب روپے ڈکار گئے۔ ڈیڑھ ارب مالیت کے اسپئیر پارٹس بھی بنا ضرورت کے لیے گئے۔

دس سال قبل پی آئی اے کے طیاروں کی تعداد 34 جبکہ خسارہ 72 ارب روپے تھا۔ سال 2017 تک طیارے کم ہوتے ہوتے 12 رہ گئے لیکن خسارہ بڑھتے بڑھتے 360 ارب ہوگیا۔

قومی ائیر لائن میں 457 ملازمین جعلی ڈگریوں کے حامل نکلے جن میں سولہ پائلٹس اور 33 ایئرہوسٹس بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں ایوی ایشن پالیسی، ترکش اور گلف ائیرلائنز سے معاہدوں پر نظرثانی اور سی ای اوز اور ایم ڈی سمیت تمام بھرتیاں میرٹ پر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی آئی اے سے رپورٹ پر ایک ماہ میں جواب مانگ لیا۔

CIVIL AVIATION

pia planes

Tabool ads will show in this div