جنوبی وزیرستان: اراضی تنازع پر 2 قبائل مورچہ زن، فائرنگ سے متعدد زخمی

 

جنوبی وزیرستان سب ڈویژن وانا کے علاقہ تحصیل توئے خلہ میں اراضی  تنازع پر ایک بار پھر احمدزئی وزیر قبائل دو شاخیں کارے خیل اور دوتانی قبائل ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوگئے ہیں۔ دونوں قبائل کے درمیان گزشتہ رات سے ایک دوسرے پر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے گولہ بھاری جاری ہے جس میں متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 انتظامیہ نے فاٹا اینٹرم گورننس ریگولیشن ایکٹ 2018 قانون کے تحت کریک ڈون شروع کرکے فریقین کے 12 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

 جنوبی وزیرستان سب ڈویژن وانا کے علاقہ چینہ خواہ میں ایک عرصے سے کرے خیل قبائل اور دوتانی کے مابین زمین کی ملکیت پر تنازع چلا آ رہا ہے۔

تنازع نے گزشتہ رات اس وقت شدت اختیار کرلی جب دونوں متحارب قبائل نے ایک دوسرے پر زمین دوز مورچوں سے جدید خود کار اور بھاری ہتیاروں سے گولہ بھاری شروع کی جس میں فریقین کے کئی افراد ذخمی ہونے کے اطلاعات موصول ہوری ہیں۔

 ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے بھاری ہتیاروں سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے مقامی آبادی گھروں میں محصور ہوگئی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر وانا فہید اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ دونوں قبائل کے خلاف فاٹا اینٹرم گورننس ریگولیشن ایکٹ 2018 قانون کے تحت کریک ڈون شروع کرکے دونوں فریقین کے 12 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں ملک شیر غلام، محمد امیر، احمد خان، وارے خان، قسمت خان دوتانی، تاج دوتانی، گل زمان دوتانی، الف دوتانی شامل ہیں۔

اسٹنٹ کشمنر کے مطابق مذید گرفتاریوں کے لیے موبائل ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ فریقین کے مابین فائر بندی اور حلات کنٹرول کرنے کے لیے ایف سی اور لیویز فورس کے جوانوں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

wana

Tabool ads will show in this div