اظہار برہمی،اہم پیشرفت، قحط سالی

مستونگ دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، پانچ دہشتگرد گرفتار

روزنامہ قومی آواز

مستونگ دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، پانچ دہشتگرد گرفتار ذرائع کے مطابق گرفتار دہشتگرد مستونگ اور شاہ نورانی خود کش حملوں میں ملوث ہیں، ان میں مطلوب ترین دہشتگرد بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقے قلات سے مستونگ اور شاہ نورانی خود کش حملوں میں ملوث پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں انتہائی مطلوب ترین دہشتگرد بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے افغانستان میں موجود ساتھی کا نام بھی بتا دیا ہے، فاروق بنگلزئی نامی یہ دہشتگرد خود کش بمبار فراہم کرتا ہے۔ گرفتار دہشتگرد ہلاک دہشتگرد ہدایت اللہ کے قریبی ساتھی ہیں، ماسٹر مائنڈ ہدایت اللہ حساس ادارے سے مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔ گرفتار دہشتگرد مغویوں کو سرنگوں میں قید رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ رواں سال 13 جولائی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہونے والے خود کش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت کم از کم 149 افراد شہید اور 186 زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس اور حساس اداروں نے تحقیق میں سراغ لگایا تھا کہ خود کش حملہ کرنے والے بمبار کا تعلق سندھ کے علاقے میرپور ساکرو سے تھا۔ خود کش بمبار کے خاندان کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا لیکن گزشتہ چار دہائیوں سے وہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں رہائش پذیر ہے۔ اس سے قبل 2016ءمیں ضلع خضدار میں دربار شاہ نورانی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پچاس سے زائد زائرین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

لسبیلہ میں قحط سالی کے باعث مال مویشی مرنے لگے

روزنامہ آزادی

لسبیلہ میں طویل  قحط سالی کے باعث مال مویشی مرنے لگے جس سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں ،اوتھل کے مضافات میں لوگوں  کی ایک کثیر تعداد گزشتہ کافی عرصے سے قحط سالی کے عفریت کا سامنا کئے ہوئے ہیں،علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ قحط سالی کے باعث پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اب 20 کلومیٹر دور سے پینے کا پانی کسی جوہڑ اور تالاب سے لانا پڑتا ہے جب کہ ہمارے مال مویشی بھی اسی وجہ سے مر رہے ہیں ،ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے جب کہ ہمیں اب تک پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔

کمشنر قلات کا اچانک گڈانی شپ بریکنگ یارڈ  کا دورہ، بی ڈی اے کا ڈی سیلینیشن پلانٹ فعال نہ ہونے پر اظہار برہمی

روزنامہ بولان

کمشنر قلات سعید جمالی نے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کا دورہ کیا گڈانی ریسٹ ہاؤس  میں شپ بریکروں سے ملاقات کئے اور شپ بریکنگ کے متعلقہ  اداروں سے بریفنگ لی اس موقعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےانھوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پانی کا بحران ہے شپ بریکنگ یارڈ میں جس ترقی کا سوچ کر آیا تھا مگر آج یہاں آکر مایوس ہوا جس طرح ترقی ہونی چاہئے اس طرح نہیں ہو پائی جو قابل افسوس ہے،انھوں نے بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ڈی سیلینیشن پلانٹ فعال نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ ایک ماہ کے اندر پلانٹ کو فعال کیا جائے اور پانی سپلائی کی جائے۔

lasbella

Gadani ship breaking

Tabool ads will show in this div