خیبر ڈسٹرکٹ کی پہلی لائبریری ایک بہترین انتقام

مسلح افراد نے عصمت اللہ آفریدی کے بھائی کو قتل کیا۔ اس نے ردعمل کے طورپر باڑا بازار میں لائیبریری کے لئے کتابیں جمع کرناشروع کردیں۔ سماء ڈیجیٹل کے لیے فواد علی کی رپورٹ۔

سال 2012 میں مارچ کی 4 تاریخ کو لشکر اسلام کے جنگجوؤں نے 34 سالہ ڈاکٹر رحمت آفریدی کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔ ڈاکٹر رحمت اپنے مہمانوں کو اس حملے میں تحفظ فراہم کررہے تھے کہ اس دوران ان کی جان چلی گئی، جس کے بعد ان کے بھائی نے خون کا بدلہ ایک انوکھے انداز میں لیتے ہوئے بھائی کے نام پر لائیبریری کا آغاز کیا اور روایتی انتقامی کارروائی کو ایک نیا رخ دیا۔

عصمت اللہ نے بھائی کے نام پر لائیبریری کا نام رکھتے ہوئے اسے رحمت پبلک لائیبریری کا نام دیا، جس کا شمار خیبر ڈسٹرکٹ میں اپنی نوعیت کے پہلے کتاب گھر کے طور پر ہوتا ہے۔

عصمت اللہ نے بتایا کہ اگر ہم بھی ہتھیار اٹھالیتے جس سے میرے بھائی کی جان گئی ہے تو پھر ان میں اور ہمارے درمیان کیا فرق رہ جاتا۔ انہوں نے تعلیم کو بہترین انتقام قرار دیا۔

یہ لائیبریری باڑا بازار میں قائم ہے، جہاں لشکر اسلام تنظیم نے اپنے پنجے گاڑھے اور اس جگہ کو منشیات، ہتھیار اور اسمگلنگ کے سامان کا گڑھ بنایا۔

دہشت گردوں نے 65 اسکولوں کو تباہ اور 55 کو نقصان پہنچایا، تاہم اب تک13 اسکولوں کو از سر نو تعمیر کیا جا چکا ہے۔

پاک فوج کو اس علاقے کو جنگجوؤں سے پاک کرنے میں 7 برس کا عرصہ لگا۔ اس دوران تقریبا 34 ہزار 54 خاندانوں نے نقل مکانی کی، جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی۔

اس لائیبریری کی زیادہ تر کتابیں دوستوں اور پشاور سمیت دیگر شہروں کے لوگوں نے تحفتا دیں۔ 6 برس کے عرصے میں اس لائیبریری کی رکنیت 410 ممبران تک پہنچ گئی ہے، جس میں طالب علم سمیت 22 خواتین بھی شامل ہیں۔

جب یہ لائیبریری کھولی گئی توعصمت اللہ نے ہر اسکول، مسجد اور حجرے کا اپنے دوستوں کے ہمراہ دورہ کیا اور انہیں اس لائیبریری کے بارے میں آگاہ کیا۔ عصمت اللہ اب الرحمت ٹرسٹ چلاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کی کمی اور ناخواندگی کے باعث ہمارا نقصان ہوا ہے۔

لائیبریرین وارث خان کے مطابق، یہاں آنے والے افراد زیادہ تر تاریخ اور خطے کے مسائل سمیت غربت کے موضوعات پر کتابوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس لائیبریری میں رحمان بابا، حمزہ شنواری اور غنی خان کو زیادہ پڑھا جاتا ہے،ان سب ہی نے امن اور برداشت کا سبق دیا۔

اس لائیبریری میں 2ہزار 4سو کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے، جس میں زیادہ ترتعلیمی نوعیت کی ہیں۔ کتاب گھر سے تقریبا 600 کتابیں جاری کی جاچکی ہیں۔ یہاں کا کوئی بھی رکن ایک وقت میں 4 کتابیں 2 ہفتے تک پڑھنے کیلئے رکھ سکتا ہے۔

آس پاس کے دکاندار یہاں اخبارات کا مطالعہ کرنے بھی آتے ہیں،جو زیادہ تر اردو میں ہوتے ہیں۔ ہفتے کا دن خواتین کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ پر امن ماحول کی وجہ سے بھی طالب علم یہاں اپنے امتحانات کی تیاری کےلیے بھی آتےہیں۔ یہاں کی ایک دیوار پر تحریر ہے کہ  ”اب کتابیں راج کریں گی “، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں آنے کے لیے نوجوان مردوں اور خواتین کو زیادہ سمجھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہوگی۔

خیبر ڈسٹرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلی عوامی لائیبریری ہے۔

Khyber District

Tabool ads will show in this div