کراچی، دلہن کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا

Sep 25, 2018

کراچی میں شادی سے چند دن قبل لاپتہ ہونے والی دلہن سے متعلق پولیس نے اغواء کا امکان مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی اپنے سابقہ منگیتر کے ساتھ رضامندی سے چلی گئی ہے جبکہ لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو پارلر کے باہر سے اُس کے سابق منگیتر نے دیگر 3 ملزمان کے ساتھ مل کر اغواء کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد میں بیوٹی پارلر کے باہر سے ایک دلہن پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی۔ والدین کے مطابق ان کی بیٹی کی 30 ستمبر کو شادی تھی اور مایوں کی تیاری کیلئے وہ اپنی بہن کے ساتھ نارتھ ناظم آباد میں واقع ایک بیوٹی پارلر گئی تھی۔

واقعے کا مقدمہ تیموریہ تھانے میں دلہن کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں لڑکی کے سابق منگیتر علی اور 3 دیگر ملزمان نامزد ہیں۔

پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ علی کو لڑکی نے خود فون کرکے پارلر بلایا جبکہ علی کے پارلر پہنچنے پر لڑکی کی بہن نے شور مچایا جس پر لوگ جمع ہوگئے تھے لیکن اس موقع پر لڑکی نے لوگوں کو کہا کہ وہ اپنی مرضی سے جارہی ہے جبکہ تحقیقات میں 4 لوگوں کے پارلر پہنچنے کے کوئی شواہد نہیں ملے، وہاں صرف لڑکی کا سابق منگیتر علی آیا تھا۔

ایس پی شبر بلوچ کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنے سابق منگیتر کے ساتھ کورٹ میرج کرلی ہے اور میرج سرٹیفیکٹ تھانے میں جمع ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی۔

دوسری جانب لاپتہ لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی فرار نہیں ہوئی بلکہ علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو اغواء کیا ہے۔

اہل خانہ نے علی اور اس کے دوستوں کے خلاف اغواء کا مقدمہ بھی درج کروادیا ہے۔

Tabool ads will show in this div