ہمسائیہ مگر حریف ایٹمی طاقتوں کے مابین ایشیا کپ کی تاریخ

روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کا میچ ہر دور میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی تنازعات ، کشمیر اور ایل او سی کے تناظر میں روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والا میچ آر یا پار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل متعدد بار بھارت کی جانب سے اس تاثر کی نفی کی گئی کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کسی طور تنازعات کے حل تک پاکستان کیساتھ کوئی سیریز نہیں کھیلے گی، تاہم رواں ماہ ہونے والے ایشیا کپ کی دوڑ میں دونوں ملکوں کا ٹاکرا کسی سیریز سے کم نہ ہوگا۔

ایشیا کپ میں دونوں حریفوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی جائے تو دونوں ہی اس معاملے میں تگڑے نظر آئے ہیں۔ 34 سالہ پرانی تاریخ کے اس کپ میں پاکستان اور بھارت کے مابین 12 میچز کھیلے گئے۔ جس میں سے پانچ میچز پاکستان نے اپنے نام کیے، جب کہ چھ میچز میں جیت بھارت کے نام رہی، تاہم ایک میچ بارش کی نظر ہوگیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جہاں کشیدگی روایتی حریفوں کے مابین میچ کی منسوخی کا سبب بنتی ہے، وہیں یہ کرکٹ ڈپلومیسی دونوں ممالک کے لوگوں کو قریب لانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ کئی عشروں سے ہمسایہ مگر حریف ایٹمی طاقتیں کرکٹ کے کھیل میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں، جو صرف ایک کھیل ہی نہیں دونوں جانب سے تناو اور اعصاب کی جنگ بھی شمار ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر غالب آنے کی خواہش میچ کے میدان میں مزید آگ بھرتی ہے۔ میچ کے دوران جہاں جوش و خروش اور تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں، وہیں میچ کے دوران ٹی وی اشہارات کی بھر مار میچ کا مزہ کرکرا کر دیتی ہے، تاہم میچ دیکھنے کا جوش اور جنون ایونٹ کی آخری گیند تک برقرار رہتا ہے۔ سرحدوں پر ہتھیار تانے، بات چیت بند ہونے اور چینلز پر پابندیوں کے باجود پاکستان اور بھارت کا جب جب میچ ہوا دیکھنے والوں کی سانسوں کو روک کے رکھ دیا۔ ذیل میں ایشیا کپ میں ہونے والے پاک بھارت ٹاکرے کا خلاصہ پیش ہے۔

پہلا میچ 1984

ایشیا کپ کا پہلا میچ 1984 میں ہوا۔ دونوں حریفوں کے مابین میچ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ میں ہوا، جہاں بھارت نے جیت اپنے نام کی۔ اس میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 188 رنز کا ہدف دیا، تاہم پاکستانی ٹیم یہ ہدف پورا نہ کر سکی اور پوری ٹیم 134 رنز پر ہی آوٹ ہوگئی۔

دوسرا میچ1988

ایشیا کپ کا دوسرا ایونٹ سال 1988 میں بنگلادیش میں ہوا، یہ میچ بھی بھارت کے حق میں گیا اور بھارت نے چار وکٹوں سے جیت لیا۔ میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو 142 رنز کا ہدف دیا جو کہ بھارت نے باآسانی پورا کیا۔

تیسرا میچ1995

ایشیا کپ کا تیسرا ایونٹ ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر سال 1995 میں سجا، جہاں 97 رنز سے جیت پاکستان نے اپنے نام کی۔ یہ میچ شارجہ میں کھیلا گیا۔ اس میچ میں بھارت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے مقررہ اوورز میں 266 رنز بنائے۔ اس میچ میں انضام الحق اور وسیم اکرم نے اپنی صلاحیتوں کے شاندار جوہر دکھائے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دیا ہوا ہدف پورا نہ کرسکی اور محض پوری ٹیم 169 رنز پر اپنا سا منہ لے کر واپس پویلین لوٹ گئی۔

چوتھا میچ1997

ایشیا کپ کا اگلا ایونٹ سال 1997 میں سری لنکا میں ہوا، جہاں پاکستان اور بھارت کے مابین چھکوں اور چوکوں کی بارش یا وکٹیں اڑنے کے مناظر کرکٹ شائقین دیکھنے سے محروم رہے اور کولمبو میں ہونے والا میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا اور اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔

پانچواں میچ2000

ایشیا کپ کا پانچواں ایونٹ سال 2000 میں بنگلادیش میں ہوا، جو پاکستان نے 44 رنز سے اپنے نام کیا۔ میچ پاکستان کی شاندار کارکردگی کے باعث یادگار رہا، جہاں محمد یوسف کی سینچری نے جیت پاکستان کی جھولی میں ڈالی۔ اس میچ میں پاکستان نے بھارت کو جیت کیلئے 295 رنز کا پہاڑ حیسا ہدف دیا، جو بھارت مقررہ اوورز میں حاصل نہ کرسکا اور بدترین شکست کا سامنا رہا۔

چھٹا میچ 2004

سال 2004 میں ایونٹ کا میدان سری لنکا میں سجا، جو پاکستان نے 59 رنز سے اپنے نام کیا۔ یہ میچ ایک طرح سے ایشیا کپ میں پاکستان کی ہیٹ ٹرک بھی ثابت ہوا، جہاں بھارت مسلسل دو میچز ہارا اور پاکستان کو لگا تار تیسری بار بھارت کے خلاف کامیابی ملی۔ یہ میچ اس لئے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان نے پہلی بار ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف 300 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا، جس کا سہرا شعیب ملک کے سر جاتا ہے۔ اس میچ میں جہاں پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام ہوئی، وہاں شعیب ملک مرد بحران بن کر ابھرے اور انہوں نے 18 چوکوں اور ایک چھکے پر مشتمل بہترین اننگ کھیلی۔

ساتھواں میچ 2008

ایشیا کپ کا ساتھواں ایونٹ اور روایتی حریفوں کے مابین ساتھواں میچ سال 2008 میں پاکستان کے شہر کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہوا، تاہم قومی کرکٹ ٹیم ہوم گراونڈ کا فائدہ نہ اٹھا سکی۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے بھارت کو 299 رنز کا ہدف دیا گیا اور یہ خیال کیا گیا کہ بھارت یہ ہدف حاصل نہ کرسکے گی، تاہم بھارت نے یہ بدف باآسانی حاصل کرلیا۔

آٹھواں میچ 2010

سال 2010 میں ایشیا کپ کا ایونٹ سری لنکا میں ہوا، جو بھارت نے تین وکٹوں سے اپنے نام کیا۔ اس ایونٹ میں دونوں جانب سے کوئی شاندار کھیل پیش نہ کیا جاسکا۔ بھارت کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 267 رنز بنائے۔ اس میچ میں سلمان بٹ اور کامران اکمل نمایاں رہے۔ پاکستانی بولرز کی خراب کارکردگی کے سبب پاکستان کو شکست کا سامنا رہا اور بھارت نے ہدف پورا کرلیا۔

نواں میچ 2012

سال 2012 میں ایشیا کپ کا ایونٹ بنگلادیش میں کھیلا گیا۔ جو بھارت نے پاکستان کے خلاف چھ وکٹوں سے جیتا۔ پاکستان نے میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو 329 رنز بنائے اور 300 رنز کا ہدف دیا۔ میچ کے آغاز میں محمد حفیظ اور ناصر جمشید نے شاندار کھیل پیش کیا اور مشترکا طور پر 244 رنز بنائے۔ اس اننگ کی خاص بات یونس خان کے 34 بولوں پر 52 رنز تھے، جس کے بعد پاکستان 329 کا اسکور کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میچ میں بھارت کی جانب سے ویرات کوہلی اور سچن ٹنڈولکر نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

دسواں میچ2014

روایتی حریفوں کے مابین ایک اور میچ بنگلادیش میں ہوا، جہاں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ ایک وکٹ سے اپنے نام کیا۔ میچ کے آخر تک کسی کو بھی پاکستان کی جیت کا یقین نہ تھا۔ سال 2014 میں ہونے والے اس میچ میں میچ کے اختتام میں بوم بوم آفریدی نے میچ کا پانسا پلٹ ڈالا۔ شاہد خان آفریدی کے میچ کے آخری لمحات میں لگاتار دو چھکوں نے جیت پاکستان کی جھولی میں ڈال دی۔ اس میچ میں شاندار پرفارمنس پر آفریدی مین آف دی میچ قرار دیئے گئے۔

گیارواں میچ 2016

ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے مابین آخری بار میچ سال 2016 میں بنگلا دیش میں کھیلا گیا، جو پانچ وکٹوں سے بھارت نے اپنے نام کیا۔ ایونٹ میں پاکستان کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے قومی ٹیم محض 83 رنز پر ہی پویلین لوٹ گئی، جس کے بعد بھارت کو ہدف کا تعاقب مسئلہ نہ رہا۔

PakvsInd

Aisa cup

Asia Cup History

Tabool ads will show in this div