دکی،کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے سے 2مزدور جاں بحق

بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دو مزدورجاں بحق ہوگئے۔

لیویز ذرائع کے ڈسٹرکٹ دکی میں کان میں گیس بھرنے کے بعد کان میں مزید کام بند کردیا گیا ہے، جب کہ کان کنوں کی کان کے اندر آمد و رفت بھی روک دی گئی ہے۔ مزدوروں کی لاشیں کان سے نکال کر اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

کوہاٹ: کوئلے کی کان میں دھماکہ، 9 مزدور جاں بحق، 4 زخمی

لیویز ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زہریلی گیس سے مزید 2مزدور بھی متاثر ہوئے ہیں، جنہیں کان سے نکال کر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ابراہیم اور عبداللہ کے ناموں سے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی دکی کی کان میں اگست کے مہینے میں حادثے کے دوران ایک مزدور جاں بحق ہوگیا تھا، جب کہ مئی کے مہینے میں سوراب اور دکی کے علاقوں میں قائم کانوں میں حادثے کے دوران 26 مزدور جاں بحق ہوگئے تھے۔

 

اپریل کے مہینے میں بھی سوراب اور دکی کے علاقوں میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات کے باعث 8 سے زائد کان کن ہلاک ہوئے تھے۔ بلوچستان میں دیگر صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

بلوچستان،کوئلہ کانوں میں حادثات،جاں بحق مزدوروں کی تعداد23 ہوگئی

کوئلے کی کانیں بلوچستان میں زیادہ تر کوئٹہ، ہرنائی ،دکی اور کچھی کے اضلاع میں ہیں۔ ان کانوں میں 60 ہزار افراد کام کرتے ہیں لیکن حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ان میں حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔

 

کوئلہ کی کانوں میں ہونے والے پے در پے حادثات پر کان کنوں کی مزدور تنظیم کی جانب سے ناقص حفاظتی انتظامات پر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ 2010 سے اب تک بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے واقعات میں 200 سے زائد کان کن جاں بحق ہوئے ہیں۔

 

سیکریٹری جنرل لالہ سلطان کے مطابق محکمہ معدنیات بھی سیفٹی اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کانوں میں حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار اپنے آپ کو سیفٹی یا مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ذمہ دار نہیں سمجھتے۔

کوئلے کی صعنت

واضح رہے کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع میں کوئلے کی صنعت سے تیس ہزار کانکنوں کا روزگار وابستہ ہے، جن کی جانیں حفاظتی انتظامات اور مناسب آلات نہ ہونے کے سبب اکثر داؤ پر لگی رہتی ہیں۔ ہر سال اوسطاً 100کاننکن کوئلہ کانوں میں گیس دھماکوں، مٹی کے تودے گرنے، ٹرالی کی رسی ٹوٹنے سمیت مختلف حادثات کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مائنز لیبر یونین کے رہنماﺅں کا موقف ہے کہ مائنز ایکٹ ایک صدی پرانا ہوگیا ہے اور اس میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس ایک صدی پرانے قانون پر بھی صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا۔ کوئلہ کان مالکان اور ٹھیکیدارمزدوروں کی جانوں سے کھیلتے ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

حادثات کی وجوہات

چیف انسپکٹر مائنز افتخار  احمد خان کا کہنا ہے کہ حادثات کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ کان کنوں کی غفلت ہے۔ کانوں میں حادثات اکثر تب پیش آتے ہیں، جب کان کن چھٹی کے دن کے بعد ہفتے کی صبح کان میں اترتے ہیں۔ کان کن ہر جمعرات کی شام سے کام بند کرکے جمعہ کے دن بھی مکمل چھٹی کرتے ہیں، عموما اس دوران کان میں گیس جمع ہوتی ہے۔ ہفتے کی صبح جب وہ کان میں اترتے ہیں تو کان مںں گیس چیک کرنے سے پہلے ہی کام شروع کردیتے ہیں۔ اسی طرح کان حادثات کی بڑی وجہ مالکان کی جانب سے کوئلہ کانیں ٹھیکے پر دینا بھی ہے۔ ٹھیکیدار ٹھیکے کی مدت کے دوران کانکن کی جان کی قیمت پر زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کما سکیں۔ مائنز ایکٹ بھی تقریبا ایک صدی پرانا ہے اس میں غفلت بھرتنے پر سزائیں بہت کم ہیں۔

GAS LEAKAGE

coalmine

dakki

Tabool ads will show in this div