ڈیرہ بگٹی،لیڈی ڈاکٹر کی عدم موجودگی سے رواں ماہ ہلاکتوں کی تعداد 10 تک جا پہنچی

This July 25, 2006 handout photo provided by the March of Dimes Foundation shows a baby in the Neonatal Intensive Care Unit (NICU) at the Albany Medical Center in Albany, N.Y. About 15 million premature babies are born every year _ more than 1 in 10 of the world’s births and a bigger problem than previously believed, according to the first country-by-country estimates of this obstetric epidemic.  The startling toll: 1.1 million of these fragile newborns die as a result, and even those who survive can suffer lifelon
This July 25, 2006 handout photo provided by the March of Dimes Foundation shows a baby in the Neonatal Intensive Care Unit (NICU) at the Albany Medical Center in Albany, N.Y. About 15 million premature babies are born every year _ more than 1 in 10 of the world’s births and a bigger problem than previously believed, according to the first country-by-country estimates of this obstetric epidemic. The startling toll: 1.1 million of these fragile newborns die as a result, and even those who survive can suffer lifelon

ڈیرہ بگٹی  میں لیڈی ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے باعث مزید ایک خاتون  اپنے نومولود سمیت  دوران حمل جاں بحق ہوگئیں،رواں ماہ  ہلاکتوں کی تعداد 10 جبکہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔

ضلع ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث دوران حمل  خواتین اور نومولودوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے،اور اسی سلسلے میں ایک اور حاملہ خاتون نومولود سمیت جاں بحق ہو چکی ہیں،ڈیرہ بگٹی کے سرکاری اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے باعث حاملہ خاتون کو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان منتقل کیا جارہا تھا جوکہ زیادہ خون بہنے کے باعث راستے میں ہی دم توڑ گئیں۔

جاں بحق ہونے والی خاتون کا تعلق ڈیرہ بگٹی کے  محلہ زانکو سے تھا، رواں ماہ یہ خواتین اور بچوں کی ہلاکت کا دسواں جبکہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ہلاکتوں کا پچیسواں واقعہ ہے، ڈیرہ بگٹی ضلع میں گائناکالوجسٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین کو علاج کیلئے سینکڑوں کلومیٹر دور پنجاب کے اسپتالوں میں لے جانا پڑتا ہے جس کے بعد طویل اور دشوار گزار رستوں کی وجہ سے اکثر خواتین رستے میں ہی دم توڑ دیتی ہیں، خواتین اور بچوں کی تواتر سے ہلاکتوں پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جب کہ ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ پے ررپے ہلاکتوں کا نوٹس لے کرذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

 مزید پڑھیے:ڈیرہ بگٹی،لیڈی ڈاکٹرز نہ ہونےکےباعث دوران زچگی اموات میں اضافہ

واضع رہے کہ صوبائی وزیر صحت نصیب اللہ مری نے گزشتہ دنوں سما سے گفتگو کرتے ہوئے  ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں کے معاملہ کا نوٹس لینے کے بعد لیڈی ڈاکٹر کی فراہمی کا اعلان کیا تھا مگر اس کے  باوجود وہاں تا حال کوئی لیڈی ڈاکٹر تعینات نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی زمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جا سکی ہے۔

health department

Lady doctor

death in pregnancy

dera bught

Tabool ads will show in this div