پاکستان میں تین سال میں 500خواجہ سراء قتل، سیکریٹری لاء کمیشن

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/09/SC-Khawaja-Sara-Case-1500-Isb-Pkg-12-09.mp4"][/video]

سپریم کورٹ میں سیکریٹری لاء کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ 3 سال میں 500 خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے خواجہ سراؤں کیخلاف بلیو وینز نامي ویب سائٹ کا نوٹس لے لیا اور ریمارکس دیئے کہ یہ کون سی این جی او ہے جو غلط افواہيں پھيلا کر ملک کو بدنام کر رہی ہے؟۔

خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، سپریم کورٹ نے لاء کمیشن سے 2 ہفتے میں سفارشات طلب کرلیں۔

عدالت عظمیٰ نے 2  خواجہ سراؤں کو سپریم کورٹ میں ملازمت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چيف جسٹس نے استفسار کيا کہ کیا تمام درخواست گزاروں کے شناحتی کارڈز جاری ہوگئے؟۔ نادرا حکام نے بتايا کہ خواجہ سرا شناختی کارڈز بنوانے کيلئے نہیں آتے، ابھی تک صرف 342 کو کارڈ جاری ہوئے ہیں۔

چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ محض کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں، ہم خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لا رہے ہیں، اُن کے معاشرتی مسائل حل ہونے چاہئیں۔

سيکریٹری لاء کميشن نے انکشاف کيا کہ 2015ء سے اب تک 500 خواجہ سرا قتل ہوچکے ہیں، خيبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کو تذلیل اور جان لیوا دھمکیوں کا سامنا ہے۔

چيف جسٹس نے خواجہ سراؤں کیخلاف بليو وينز نامي ویب سائٹ کا نوٹس لے لیا، ویب سائٹ کے مالک نسیم قمر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس سائٹ کے ذریعے غیر ضروری معلومات پھیلائی جارہی ہیں، یہ کون سی این جی او ہے جو ملک کو بدنام کر رہی ہے۔  کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔

SHEMALE

Tabool ads will show in this div