بصرہ میں پُرتشدد مظاہرے، ایرانی قونصل خانہ نذر آتش، جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک

عراق کے شہر بصرہ ميں حکومت کیخلاف احتجاج کے دوران ايران کے قونصل خانے کو آگ لگادی گئی، مظاہروں کے بعد شہر ميں کرفيو نافذ کرديا گيا، پولیس سے جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے، درجنوں کو گرفتار کرلیا گیا، بصرہ ایئرپورٹ پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔

عراق کے شہر بصرہ ميں ہفتہ بھر سے جاری احتجاج گزشتہ رات سنگين صورتحال اختيار کرگيا، حکومت کیخلاف احتجاج کے دوران ايرانی قونصل خانہ جلاديا گيا، جس کے بعد بغداد حکومت نے شہر ميں کرفيو نافذ کرديا۔

عراقی پوليس کا کہنا ہے کہ جس وقت قونصل خانے پر دھاوا بولا گيا، عمارت خالی تھی۔ مظاہرین بصرہ کے شہری تھے، جن کا کہنا تھا کہ حکومت کی کرپشن، سہولیات کی عدم فراہمی اور بیروزگاری نے احتجاج پر مجبور کرديا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اب تک پوليس سے جھڑپوں ميں 12 مظاہرين ہلاک ہوچکے ہیں، مظاہرین کی جانب سے شہر کی تقریباً تمام عمارتوں کو آگ لگادی گئی ہے، جن میں حکومتی دعوۃ پارٹی کا صدر دفتر بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی جانب جانے کی بھی کوشش کی تاہم عراقی پولیس نے احتجاج کرنیوالوں کو منتشر کردیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بصرہ ایئرپورٹ پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ عراقی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بصرہ ایئرپورٹ پر نامعلوم مقام سے 3 راکٹ فائر کئے گئے تاہم ہوائی اڈے کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا، امریکی قونصلیٹ بصرہ ایئرپورٹ سے متصل ہے۔

ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ حملے سے پروازوں کا شیڈول متاثر نہیں ہوا، طیاروں کی آمد اور روانگی بلاتعطل جاری ہے۔

Clashes

rocket attack

Tabool ads will show in this div