پختونخوا کا احتساب کمیشن بند، کرپٹ عناصر نے سکھ کا سانس لے لیا

پانچ سالوں میں ایک ارب 14کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کر ڈالي جبکہ وصولي کچھ بھي نہ ہو سکي

خیبر پختونخوا کابینہ نے اپنے ہی سابقہ دور میں کرپشن کی روک تھام کیلئے قائم کردہ احتساب کمیشن کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کی منظوری دیدی جس پر کرپٹ عناصر نے سکھ کا سانس لے لیا جبکہ غیر فعال احتساب کمیشن نے 4 سال میں ایک ارب 14 کروڑ خرچ کئے۔

گزشتہ روز خیبر پختونخوا کابینہ کا پہلا اجلاس وزیر اعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں کیبنٹ روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں احتساب کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کابینہ نے احتساب کمیشن کو ختم کرنے کی منظوری دیدی۔

سال 2014 میں سابق صوبائی حکومت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر صوبے کے سرکاری محکموں سے کرپشن کے خاتمے کیلئے ایک ایکٹ کے تحت خیبر پختونخوا احتساب کمیشن قائم کیا اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل حامد خان کو اس کا ڈائر یکٹر جنرل مقرر کیا۔

کمیشن کے قیام کے بعد 2015 تک احتساب کمیشن نے کارروائیاں کرتے ہوئے احتساب عدالتوں میں 30 ریفرنس دائر کئے اورکرپشن کے الزامات میں 113 افرادگرفتار کئے اورایک ارب 75کروڑ روپے ریکورکرکے صوبائی خزانے میں جمع کرائے جبکہ تین ارب روپے سے زیادہ کے کیس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے۔

کمیشن نے جب تحریک انصاف میں موجود اعلیٰ سیاسی شخصیات  کی کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے اقدامات اٹھانا شروع کئے تو صوبائی حکومت نے کمیشن کو شٹ اپ کال دیدی جس پر اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل احتساب کمیشن جنرل ریٹائرڈ حامد خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

بعد ازاں کمیشن میں افسران اور احتساب کمشنرز کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات پر مبنی خطوط وزیر اعلیٰ کو لکھنے کی وجہ سے کمیشن غیر فعال ہوا اور دوسال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجودکمیشن کے مستقل ڈائریکٹرجنرل کی تقرری نہیں ہوسکی۔

اب صوبے کی نئے حکومت نے اپنی پہلی فرصت اور صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس ہی میں صوبائی احتساب کمیشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ایک طرف سرکاری افسران جبکہ دوسری جانب ان سیاستدانوں نے سکھ کا سانس لے لیا جن کے خلاف کمیشن نے احتساب عدالتوں میں ریفرنس جمع کئے ہیں۔

نو منتخب صوبائی حکومت نے احتساب کمیشن ختم کرنے کے بعد زیر التواء انکوائریوں اور کیسوں کو نیب کے حوالے کرنے کیلئے محکمہ قانون کو طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ اینٹی کرپشن اسیبلشمنٹ کو برقراررکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا کہ گزشتہ دورمیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے کرپشن کی روک تھام کے لیے احتساب کمیشن کے نام سے الگ ادارہ اس لیے قائم کیا تھا کہ اس وقت انہیں نیب پر اعتماد نہیں تھا نہ ہی نیب کے پاس اختیارات تھے تاہم اب مرکز میں ان کی اپنی حکومت ہے جو نیب کو مکمل طور پر بااختیار بنارہی ہے جس کی واضح مثال بابر اعوان کا استعفیٰ ہے۔ اس لئے اب صوبائی احتساب کمیشن کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔

PTI

ehtesab commission

Khyber Pakhtunkhawa

Tabool ads will show in this div