اولین ترجیح ،محکمے لینے سے انکار،پرندوں کا شکار

Sep 06, 2018

تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے،جام کمال

روزنامہ ایکسپریس

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے ان شعبوں کو سیاسی دباؤ اور مداخلت سے آزاد کیا جائے گا، اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر ان شعبوں کی بہتری کے لئے کام کریں تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تعلیم، صحت، آبنوشی اور دیگر سماجی شعبوں میں عوام کو درپیش مسائل اور ان کے حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارلیمانی گروپ کے اراکین نے وزیراعلیٰ کو سریاب اور کوئٹہ کے دیگر نواحی علاقوں سمیت صوبے کے دیگر حصوں میں بجلی ،گیس اور پانی کی عدم دستیابی، اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ اور سبجیکٹ سپیشلسٹ کی کمی، صفائی کی صورتحال اور دیگر عوامی مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نہ صرف بخوبی آگاہ ہیں بلکہ ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کو بھی فوری طور پر یقینی بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری کے لئے اہم نوعیت کے فیصلے بھی کئے گئے ہیں جن پر جلد عملدرآمد کا آغاز ہوگا اور عوام مثبت تبدیلی دیکھ سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے یونین کونسل کی سطح پر کم از کم ایک گرلز ہائی اسکول اور ایک بوائز ہائی اسکول کے قیام کو لازم قرار دیا ہے جبکہ اسکولوں کی کلاس فور کی آسامیوں پر صرف ان علاقوں کے مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا۔

گڈانی کے وڈیروں اور شپ بریکرز کےخلاف گڈانی کے مکینوں کا مظاہرہ

روزنامہ انتخاب

گڈانی شپ بریکنگ کےپلاٹ نمبر 91 کے قریب واقع قدیمی گوٹھ علی باران گوٹھ کے رہائشی غلام حسین اور اکبر کی قیادت میں گوٹھ کے مرد خواتین و بچے نے لسبیلہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین کا موقف تھا کہ ان کے قدیمی گوٹھ کی اراضی اس وقت کے چیرمین گڈانی وڈیرہ خدابخش بلوچ مرحوم نے 15 روپے فی ایکٹر اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرواتے ہوئے لیز کروائی یہ لیز الاٹمنٹ تمام تر قوانین سے ہٹ کرکی گئی ،اس سلسلے میں علاقہ مکینوں کا کیس بلوچستان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہےمگر گذشتہ روزایک شپ بریکر کی ایماء پر کچھ با اثر افراد نے گوٹھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی،جب کہ علاقہ مکینوں کی مداخلت پر انھیں دھمکیاں دی جانے لگیں،ان کا کہنا تھا کہ شپ یارڈ کی گندگی آلودگی سے پریشان تھے  کہ اتنی بڑی انڈسٹری کے باوجود روزگار ہمارے لیے نہیں ،ہمارے لوگ ماہی گیری سے وابستہ ہیں مگر اب گھروں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان, وزیراعلی بلوچستان جام کمال سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شپ بریکرز اور وڈیروں کے ظلم سے نجات دلائی جائے۔

 

بی اے پی کے دو صوبائی وزرا کا اپنے محکمے لینے سے انکار

روزنامہ انتخاب

بلوچستان حکومت میں شامل دو وزرا نے اپنے محکمے لینے سے انکار کر دیا جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض اراکین وزارتیں نہ ملنے پر وزیر اعلیٰ سے ناراض ہیں،تاحال تمام کوششوں کے باوجود 8 وزرا اور ایک مشیر نے اپنے قلمدان لے لیے ہیں تاہم بی اے پی کے دو صوبائی وزیر سردار صالح محمد بھوتانی اور سرفراز چاکر ڈومکی دی گئی وزارتیں لینے پر کسی طور راضی نہیں،اس کے علاوہ بھی بی اے پی کے کئی اراکین وزارتیں نہ ملنے پر ناراض ہیں جو کسی بھی وقت اپنی ہی حکومت کے خلاف فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں۔

سائبیریا سے آنے والے پرندوں کا شکار

روزنامہ گروک

سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندے کونج اور بٹیر کا دریائے ژوب کے کنارے اور گردنواح میں بے دریغ شکار جاری ہے جب کہ اس حوالے سے  محکمہ جنگلات خاموش تماشائی بن گئی ہے،ایک اندازے کے مطابق اسوقت ژوب میں 400 سے زائد شکاری کیمپس لگ چکے ہیں جب کہ  خیبر پختونخواہ سے شکاریوں کی آمد کا سلسلہ تاحال جاری ہے ،اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ اس مزموم کام میں کچھ بااثر شخصیات بھی ملوث ہیں اور یہ شکار کاروبار کے طور پر کیا جاتا ہے،علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان نایاب پرندوں کی حفاظت یقینی نہ بنائی گئی تو یقینا ژوب اس خوبصورت اور نایاب مہمان سے محروم ہوجائے گا۔

 

education and health

BAP

Gadani ship breaking

CM Jam kamal