مانیکا خاندان کیخلاف پولیس اقدامات بدنیتی پر مبنی نہیں تھے، رپورٹ

پاکپتن واقعات میں مانیکا فیملی کیخلاف پولیس کی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی۔ ڈی پی او رضوان گوندل فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔


ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدابخش کی تیار کردہ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مانیکا خاندان کیخلاف پولیس اقدامات بدنیتی پر مبنی نہیں تھے۔ خاور اور ابراہیم مانیکا بلائے جانے پر ڈی پی او آفس چلے جاتے تو مسئلہ حل ہوجاتا۔

رضوان گوندل نے تسلیم کیا کہ اعلیٰ پولیس حکام نے انہیں ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا نہیں کہا۔ اس حوالے سے ان کے دو متضاد بیانات سامنے آئے جنھوں نے کئی سوالات کو جنم دیا۔

مانیکا فیملی اور پولیس کا دو مرتبہ آمنا سامنا ہوا۔ پہلی مرتبہ پولیس اہلکار خاور مانیکا کی بیٹی مبشرہ کو خاتون اول سمجھتے رہے جبکہ اسی رات پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں نے مبشرہ سے بدتمیزی کی۔

دوسرا واقعہ 23 اگست کو پیش آیا جب خاور مانیکا کو پولیس نے ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہ رکے۔ پولیس نے پیچھا کرکے روکا تو اہلکاروں پر برہم ہوگئے۔

ڈی پی او رضوان گوندل کو دونوں واقعات کا علم تھا مگر انہوں نے خود کارروائی کی نہ ہی اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق رضوان گوندل اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے

PTI

pakpatan

Khawar Manika

Tabool ads will show in this div