پارلیمانی اجلاس،اکثریت نےکالعدم طالبان کیخلاف فوجی آپریشن کامطالبہ کردیا

ویب ڈیسک:
اسلام آباد : مسلم لیگ ن لی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کثرت رائے سے کالعدم طالبان کے خلاف فوری آپریشن کا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت پیر کو ہونے والے اجلاس میں ن لیگ کی اکثریت نے کالعدم طالبان کیخلاف فوری آپریشن کا مطالبہ کیا، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن یا مذاکرات جو چاہیں کریں، فیصلہ وزیراعظم پر چھوڑتے ہیں، جب کہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آئین تسلیم کرنے والوں سے ہی مذاکرات ہوں گے۔

وفاقی وزير برائے دفاعی پيداوار کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی میں کالعدم طالبان سے مذاکرات یا آپریشن سے متعلق اراکین کی رائے لی گئی، جس میں مسلم لیگ نون کے اکثر نے طالبان کے خلاف فوری آپریشن کا مطالبہ کر دیا۔ وزیر دفاعی پیداوار کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی میں کالعدم طالبان سے مذاکرات یا آپریشن سے متعلق اراکین کی رائے لی گئی، میرا نہیں خیال کہ وزیراعظم آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئیں گے۔

رانا تنویر نے مزید بتایا کہ آپریشن سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم خود کریں، کالعدم طالبان سے متعلق پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، اجلاس میں اراکین نے مذاکرات سے متعلق اپنی رائے دی ہے، تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس پر کسی رکن نے کوئی اعتراض نہیں کیا، وزیراعظم چاہتے ہیں تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کریں، جو بھی فیصلہ کریں گے ملک و قوم کے مفاد میں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات ہوں یا آپریشن کیا جائے، جس پر اکثریت نے کالعدم طالبان کے خلاف فوری آپریشن، جب کہ  5ارکان نے کالعدم طالبان سے مذاکرات کے حق میں جواب دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی نسل اور ریاست کو ہر صورت بچانا ہے، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی خاتمے کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، ملک میں امن وا ستحکام کیلئے تمام اقدامات اٹھائیں جائیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جان قربان کرنے والے فوجی ہمارے ہیروز ہیں، دہشت گردی کے خلاف شہید ہونے والوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا۔ قومی سلامتی پالیسی کی کابینہ سے منظوری کے بعد حکومت حکمت عملی کا اعلان کرینگی۔ سماء

شوبز

anniversary

crimes

کیخلاف

evidence

Tabool ads will show in this div