خورشید شاہ کی حکومت کے گڈ گورننس کے دعویٰ پرتنقید

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/08/GMF-Khursheed-SOT-28-08.mp4"][/video]

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشيد شاہ کو پي ٹي آئي کی تبديلي  اورکفايت شعاري کي مہم اور گڈ گورننس کا نعرہ ايک آنکھ بھي نہيں بھاتا ۔انھوں نے کہاکہ جو کچھ ہورہا ہے،جنگل کا قانون نظر آرہا ہے۔ گڈ گورننس کےدعوے سب نےدیکھ لیے۔

سابق اپوزيشن ليڈرنے گڈ گورننس کےحکومتی دعوؤں پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک محکمے کا ایک افسرچھٹی مانگ لیتا ہے، ایک چھوڑ جاتا ہے، یہ تو شروع میں ہی گڈ گورننس کے دعووں کی نفی کردی۔

انھوں نے مزید کہاکہ  مانیکا والے مسئلے سے سامنے آگیا کہ دباؤہوگا تو ادارے کیسے چل سکتے ہیں۔ انھوں نے سوال کیاکہ ڈی پی او کوکس طریقے سے معطل کیا گیا۔ انہوں نےمزید  کہا کہ سول سرونٹ کو ذاتی ملازم بنانے کی کوشش ہوگی تو گڈ گورننس کہاں گئی،یہ تو جنگل کا قانون نظر آرہا ہے، کوئی کسی کو کہنے والا نہیں۔

وزيراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سنو، ملٹری سیکرٹری ہاؤس تووزیراعظم ہائوس کے چار کمروں سےدس گنا اچھا ہے، وزیراعظم ہاؤس کا75 فیصد ایریا توسرکاری کاموں کےلیےہےجو اب بھی استعمال ہورہاہے۔

PTI

KHURSHEED SHAH

Tabool ads will show in this div