پختونخوا: وزارت نہ ملی تو اپنے وزرا کے احتساب کا مطالبہ کردیا

کوئي کابينہ ميں من پسند وزرات چاہتا ہے تو کوئي نظر انداز کرنے پرناراض ہے

خيبرپختونخوا کابينہ نے حلف اٹھايا نہيں کہ تحفظات آئے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بنوں کے شاہ محمد وزیر کے بعد پشاور کے فضل الہي بھی احتساب کا نام لے کر ميدان ميں کود پڑے ہیں۔

پشاور میں سماء کے رپورٹر عبدالرحمان کے مطابق خيبر پختونخوا ميں تحريک انصاف حکومت کی تشکيل کا مرحلہ ابھی باقی ہے مگر اختلافات عروج پر پہنچ گئے ہیں۔ کوئي کابينہ ميں من پسند وزرات چاہتا ہے تو کوئي نظر انداز کرنے پرناراض ہے۔

گزشتہ روز شاہ محمد وزیر نے مشير بنے سے کرديا انکار کردیا تھا اور آج پشاور سے دوسری بار منتخب ايم پی اے ملک فضل الٰہی کھل کر تو سامنے آئے نہيں مگر احتساب کی قرارداد کی آڑ ميں دل ميں چھپی خواہش نکل ہي آئی۔

 ملک فضل الہٰی نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور مشيروں کے 5 سال پہلے اور موجودہ اثاثوں کی چھان بین کی جائے۔

تعليم ، ورکس اینڈ سروسز، داخلہ، سميت اہم محکموں کے وزراء کا اعلان نہیں ہوا جس سے تاثر مل رہا ہے کہ يہ ضمني انتخاب ميں آنے والے منظور نظرافراد کے لئے محفوظ ہيں۔

PTI

ACCOUNTABILITY

Khyber Pakhtukhwa

Tabool ads will show in this div