طالبان سے مذاکرات یا آپریشن، ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کو اختیار دیدیا

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے طالبان سے مذاکرات یا آپریشن کے فیصلے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا، میاں نواز شریف کہتے ہیں مذاکرات انہیں سے ہوں گے جو اس کی خواہش رکھتے ہیں، ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں سے کیسے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔


وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں وفاقی وزراء، ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ شریک ہوئے، ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سیکیورٹی جبکہ وزیر خزانہ نے معاشی صورتحال پر بریفنگ دی۔


اجلاس میں ارکان کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات یا آپریشن کے بارے میں وزیراعظم جو بہتر سمجھتے ہیں فیصلہ کریں۔


ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اراکین سے رائے طلب کی گئی کہ طالبان کے خلاف آپریشن یا مذاکرات میں سے کون سا آپشن استعمال کیا جائے، ن لیگ کے ارکان کی اکثریت نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے پر زور دیا۔


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو شدید سیکیورٹی خطرات درپیش ہیں، سیکیورٹی فورسز اور عوام پر حملے کرنے والے ملک اور اسلام کے دشمن ہیں، آئین کو تسلیم کرنے والوں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی اولین ترجیح ہے، طالبان سے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، مذاکرات انہیں سے ہوں گے جو اس کی خواہش رکھتے ہیں، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے کیسے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔


ذرائع کے مطابق وزیراعظم آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں دہشت گردی کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیں گے اور دہشت گردی کیخلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کئے جانے کا امکان ہے۔ سماء

کی

کو

سے

دسترخوان

نے

پشاور

eid

Thar

anniversary

ن

Tabool ads will show in this div