صدارتی انتخاب میں کس کا پلڑا بھاری، نمبر گیم سامنے آگیا

صدارتی انتخابات کیلئے ملکی تاریخ میں پہلی بار کانٹے کا مقابلہ ہوگا، حکمران اتحاد کا پلڑا بھاری ہے۔

نئے پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان ہیں مگر صدر کون بنے گا؟، سب کی نظريں دارلحکومت پر جمی ہیں۔ حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر 326 کے مقابلے میں361 ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل ہے۔

قومی اسمبلی میں آزاد ارکان کی مدد سے حکومت کے پاس 179 ووٹ ہیں، جبکہ اپوزیشن متحد ہوجائے تو قومی اسمبلی سے 151 ووٹ حاصل کرسکتی ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن کو 66 ووٹ ملنے کا امکان جبکہ حکومتی اتحاد کو 36 ارکان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔

صدارتی الیکشن کیلئے پنجاب اسمبلی میں 5.44 ارکان کا ایک ووٹ گنا جائے گا، اس حساب سے حکمران اتحاد کو 34 جبکہ اپوزیشن کو 31 ووٹ مل سکتے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں 2.43 ارکان کا ایک ووٹ ہوگا، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کو 40 اور حکومت کو 25 ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے 1.7 ارکان کا وزن ہوگا ایک صدارتی ووٹ کے برابر۔ کے پی اسمبلی میں حکمران اتحاد کا پلڑا 46 صدارتی ووٹوں کے ساتھ بھاری ہے، متحدہ اپوزیشن کا صدارتی امیدوار 19 ووٹ لے پائے گا۔

بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ووٹ پورا گنا جائے گا، اس طرح حکمران اتحاد کی گنتی 41 جبکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس 19 ووٹ ہیں۔

نمبر گيم کے مطابق حکومتی اتحاد کا نامزد صدر مضبوط اميدوار ہوگا، توقع کی جارہی ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی ہی صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہوں گے۔

تاحال اپوزیشن جماعتیں مشترکہ صدارتی امیدوار کے نام پر متفق نہیں ہوسکیں، پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن پر مسلم لیگ ن نے شدید اعتراض کردیا، جس کے بعد پی پی پی رہنماء مشاورت کے بعد اپوزیشن اتحاد کو کل جواب دیں گے۔

PTI

KPK

PUNJAB

NATIONAL ASSEMBLY

Aitizaz Ahsan

Presidential Election

Dr Arif Alvi

Tabool ads will show in this div