کالمز / بلاگ

مجبور وزیراعظم کی مجبور کابینہ

اور بالآخر عمران خان اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد ملک کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہوگئے. آج سے بائیس سال پہلے ملک میں انصاف کا نظام بہتر کرنے اور عدلیہ کو بطور ادارہ آزاد اور بااختیار بنانے کے حوالے سے انھوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تھا. عمران خان سمجھتے تھے ملک میں تمام خرابیوں کی وجہ انصاف کے نظام کا بہتر نہ ہونا ہے. جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن لوٹ مار اور مفادات کی سیاست عام ہے. امیر غریب کے درمیان انصاف کا دوہرا معیار ملک میں پھیلی بےچینی اور انتشار کا باعث ہے. لہذا جب تک انصاف کے نظام کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا اداروں کو فوری انصاف کے حصول کا پابند نہیں بنایا جائے گا تب تک ملک کو ابتر صورتحال سے نہیں نکالا جاسکتا۔ اِسی وژن کے ساتھ آج سے بائیس سال پہلے عمران خان ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو لیکر سیاست کے میدان میں اترے تھے. اِس تحریک کا پاکستان کے مڈل کلاس طبقے پر گہرا اثر پڑا تھا جس کے باعث مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے کافی لوگ عمران خان کے نظریے سے جڑتے چلے گئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنی بائیس سالہ جدوجہد کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کسی نشیب وفراز سے تو نہیں گزری ہاں البتہ اِس دوران عمران خان اپنے نظریے سے پیچھے ہٹتے ضرور دکھائی دئیے یہی وجہ تھی کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے شروع کے نظریاتی ساتھیوں میں سے کافی لوگ عمران خان کا ساتھ چھوڑ گئے. جس کی ایک وجہ تو یہی تھی کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے بھی وہی روایتی طرز سیاست اپنا لیا تھا جو دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنا رکھا تھا. جوڑ توڑ کی سیاست سے لےکر اُن کرپٹ عناصر کو جماعت میں شامل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا تھا جو موجودہ کرپٹ سسٹم کے اصل ذمہ دار تھے. عمران خان نے بھی اقتدار کے حصول کے لیے ہر وہ طریقہ اپنایا جو دیگر سیاسی جماعتیں سیاسی عدم استحکام کےلیے اپناتی رہی ہیں. یہاں تک کہ کئی مواقعوں پر عمران خان خود تھرڈ امپائر کو پکارتے دکھائی دئیے ہیں. اب اسے مجبوری کا نام دیں یا کچھ اور لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج اگر اقتدار ملنے کے باوجود عمران خان کے چہرے پر اطمینان نہیں ہے پارلمنٹ میں تقریر بھول رہے ہیں حلف برداری کی تقریب میں نروس دکھائی دے رہے ہیں تو اِس کی ایک بڑی وجہ یہ کرپٹ ٹولہ ہی ہے جس سے نمٹنا خود عمران خان کےلیے چلینج بنتا جارہا ہے. باہر بیٹھے دشمن سے تو باقاعدہ جنگ کی جاسکتی ہے لیکن اندر چھپے دشمن سے بغیر حکمت عملی کے لڑنا اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتا ہے.اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے جو بیس رکنی نئی کابینہ تشکیل دی ہے جن میں پندرہ وزراء اور پانچ مشیران شامل ہیں اِن اراکینِ کابینہ پر اگر نظر ڈالیں تو ایسا معلوم پڑتا ہے کابینہ کی اِس تشکیل کے پیچھے بھی تبدیلی سے زیادہ وزیراعظم عمران خان کی مجبوری کارفرما ہے. ایسے لوگوں کو وزارت کے قلمدان سونپے گئے ہیں جن کی اکثریت یا تو متعلقہ شعبے سے کبھی وابستہ نہیں رہی یا پھر وہ متعلقہ وزارت میں عدم دلچسپی رکھتے نظر آتے ہیں.یہ بات سب جانتے ہیں شاہ محمود قریشی جوکہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے کے خواہشمند تھے لیکن صوبائی نشست میں کامیابی نہ ملنے کے باعث باحالاتِ مجبوری بےدلی سے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالتے دکھائی دے رہے ہیں.شفقت محمود جوکہ انتظامی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں انھیں وزیر تعلیم کا اہم ترین قلمدان تھما دینا کسی طرح بھی دانشمندانہ فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ شفقت محمود کے پاس شعبہ تعلیم کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہے. اِس کے علاوہ شیری مزاری جو کہ ڈیفنس کے حوالے سے کافی وسیع تجربہ رکھتی ہیں انھیں ہیومن رائٹس کا قلمدان دے کر جانے کونسے انسانی حقوق کی عملداری مقصود ہے دماغ سوچنے سے قاصر ہے. پرویز خٹک جو کہ سابق وزیراعلیٰ کےپی کے رہ چکے ہیں جن پر کرپشن کے بیشمار الزامات ہیں انھیں وزیر دفاع کا قلمدان دے کر کس کے ساتھ انصاف اور کس کے ساتھ ہاتھ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اِس کےلیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے.

وزارت قانون کا قلمدان ایسے اتحادی کے ہاتھوں میں سونپ دینا جس پر سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سمیت جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرنے کے الزامات ہیں تبدیلی کی ایک الگ ہی تصویر پیش کرتی نظر آتی ہے. اِسی طرح بین الصوبائی ہم آہنگی کی وزارت جس کا کام صوبوں کو وفاق کے قریب لانا اور اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دینا شامل ہے سندھ کی ایک ایسی متنازعہ خاتون شخصیت فہمیدہ مرزا کو دیدینا جو اپنے شوہر کے حوالے سے انتہائی متعصب جانی جاتی ہیں جبکہ انکے تعلقات سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سے انتہائی کشیدہ ہیں ایسے میں انھیں بین الصوبائی ہم آہنگی کا قلمدان سونپا باعث حیرت ہی ہے.عمران خان ہمیشہ یہ بات کہتے رہے ہیں کہ تبدیلی ہمیشہ قیادت لےکر آتی ہے قیادت کا ایماندار اور کرپشن سے پاک ہونا انتہائی ضروری ہے اگر قیادت ایماندار ہے تو پھر اسکے نیچے کام کرنے والوں کو بھی ایمانداری سے چلنا پڑتا ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد وزیراعظم عمران خان حکومتی امور کس طرح چلاتے ہیں ایک بااختیار وزیراعظم کی حیثیت سے یا ایک مجبور وزیراعظم کی حیثیت سے یہ دیکھنے کےلیے زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بس سو دن کافی ہیں۔

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div