العزیزیہ اور فیگ شپ ریفرنس کا ٹرائل ایک ساتھ چلانے کا فیصلہ

احتساب عدالت کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا ٹرائل ایک ساتھ چلانے کا فیصلہ دے دیا۔


نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت ہوئی جس میں سابق وزیراعظم کو اڈیالہ جیل سے سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا۔ احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک نے کیس کی سماعت کی، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث پیش ہوئے لیکن گواہ واجد ضیاء نہ پہنچ سکے۔

العزیزیہ ریفرنس میں تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کرنے پر وکیل صفائی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا اِس سے یہ تاثر گیا کہ العزیزیہ کا فیصلہ پہلے ہوگا۔ خواجہ حارث کی استدعا پر العزیزیہ ریفرنس میں تفتیشی افسر کا بیان روک دیاگیا۔

احتساب عدالت نے دونوں ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے مزید مہلت مانگنے کا فیصلہ بھی کیا۔ جج نے عدالتی عملے کو خط لکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء 27  اگست کو دوبارہ طلب کرلیے گئے۔

العزیہ ریفرنس میں جرح مکمل ہونے کے بعد فلیگ ریفرنس میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔

NAB court

flagship reference

Al Azizia

Tabool ads will show in this div