قتل کا مقدمہ، دیت نہیں دی، عدالت نے بری کیا، نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/08/Usman-Buzdar-1900-R-BPR-18-08.mp4"][/video]

نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کردی، کہتے ہیں عدالت نے مجھے بری کردیا تھا، میں نے کسی کو دیت نہیں دی، میرے خلاف پروپیگینڈا بے بنیاد ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار 6 افراد کے قتل کے مقدمے میں نامزد تھے، 18 سال قبل درج کیا گیا کیس دیت کی ادائیگی کے بعد ختم ہوا، 1998ء میں عثمان بزدار، ان کے والد اور بھائی پر مقدمہ درج ہوا تھا۔

نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مقدمے سے متعلق سب سے پہلا رد عمل سماء کو دیا، کہتے ہیں کہ ایک مقدمے میں میرا نام ڈالا گیا تھا، عدالت نے مجھے بری کردیا تھا، میں نے کسی کو دیت نہیں دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیت کے معاملات ہم نے ہی طے کروائے تھے، میرے خلاف ہونیوالا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، مقدمے میں تحقیقات ہوئیں کچھ ثابت نہیں ہوا، مخالفین 20 سال پرانی بات کا ایشو بنا رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماء اور رکن پنجاب اسمبلی سمیع اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے نامزد وزيراعلیٰ پنجاب پر عائد الزامات کو بے بنياد قرار دیا، بولے کہ بلدياتی اليکشن کے دوران جھگڑے اور 6 افراد کے قتل کيس ميں عثمان بزدار اور ان کے والد کا نام ضرور آيا ليکن تفتيش کے بعد وہ بے گناہ قرار پائے، جس کا تمام ریکارڈ موجود ہے، حقائق کو مسخ کرنے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔

PTI

PUNJAB

MPA

Samiullah

USMAN BUZDAR

Tabool ads will show in this div