کالمز / بلاگ

کالی پجارو

کالی پجارو ایک طرف، دوسری جانب عام سی سفید کلٹس، پجارو کے ساتھ گارڈز بھی، توں توں میں میں شروع ہو گئی۔ کالی پجارو والا جھٹ سے اُترا اور لے دے کہ کلٹس والے پہ برس پڑا۔ کالی پجارو کے مقابلے میں جیسے سفید پرانے ماڈل کی کلٹس بے چاری لگ رہی تھی ایسا ہی کچھ سواروں کے ساتھ بھی تھا۔ کالی پجارو والے کے لہجے میں بھی کڑک تھی اور کلٹس والا اپنی گاڑی کی طرح ہی لفظوں سے اس تو ں تکار میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش میں تھی۔ پجارو والے کو شاید توقع نہیں تھی کہ کلٹس والا اُس کی چمچماتی پجارو سے متاثر نہیں ہو گا اور بحث پہ اُتر آئے گا۔ پجارو والے نے رکھ کے ایک ہاتھ دیا، کلٹس والا سنبھلنے کی کوشش میں تھا کہ ایک اور رکھ کے ہاتھ دیا اور پھر پٹاخ پٹاخ پٹاخ اور اوپر تلے تھپڑوں کی بارش کر دی۔ اس پوری کاروائی میں کلٹس والا جھکتا رہا، خود کو بچاتا رہا مگر اب کہاں بچا سکتا تھا۔ چند تھپڑ جڑنے کے بعد پجارو والے کے گارڈز نے ہی پجارو والے کو گاڑی میں چھڑانے کے اس انداز سے گاڑی میں بٹھایا کہ کلٹس والے کو پکڑنا زیادہ شمار کیا جانا چاہیے اور اِدھر پجارو چلی، اُدھر گارڈز بھی پھرتی سے پیچھے پیچھے چلے۔

بات آئی گئی ہو جاتی ۔ مگر کالی پجارو والے موصوف پی ٹی آئی کے نو منتخب ممبر سندھ اسمبلی نکلے۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ اگر نام سے ہی ڈاکٹر ہیں پھر تو خیر ہے لیکن اگر ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں تو خدا کرئے اپنے مریضوں کے ساتھ اُن کا رویہ ایسا نہ ہوتا ہو۔ ایک ڈاکٹر شخص جو اتنا جلدی غصے میں آ سکتا ہے کہ ایک عام شہری کو سرِ بازار پیٹ ڈالے تو وہ ڈاکٹر ہو کے کیسے معاشرے کے لیے سود مند ہو گا اور ممبر اسمبلی ہو کے کیسے اپنے ہواسوں پہ قابو رکھ کے صوبے کے غریب عوام کے لیے تبدیلی لا سکے گا۔

معافی ہوئی، داؤد چوہان نے معاف بھی کر دیا ہے۔ کیوں کہ داؤد چوہان پی ٹی آئی کے اہم راہنماوں فردوس شمیم نقوی اور نجیب ہارون کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں، لہذا داؤد چوہان صاحب نے ڈاکٹر عمران علی شاہ کو معاف بھی کر دیا۔ لیکن پاکستان میں کالی پجارو کلچر کس طرح اِس نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ایک ایسا راز ہے جو زباں زدِ عام ہے۔ آپ ایک ٹوٹی پھوٹی کھٹارا گاڑی لیجیے اور پورے شہر کا چکر لگائے بیسیوں جگہوں پہ نہ صرف جامع تلاشی ہو گی بلکہ درشتگی سے پوچھ تاچھ بھی ہو گی۔ کاغذ پورے ہوں پھر بھی درشتگی سے کہا جائے گا، چلو جاؤ۔ اور آپ اس سے چند لمحے بعد ایک زیرو میٹر پجارو لیجیے، شیشے کالے کیجیے یا پھر نمبر پلیٹ کے ڈیزائن بنوائیے، آپ اُس پہ لال پیلی بتیاں لگوا لیجیے، یا پھر الغم ولغم لگا لیجیے، پورا شہر گھوم آئیے، آپ کو پہلی بات کہ روکا ہی نہیں جائے گا۔ اور شوں کرتے ہوئے ہر جگہ سے آپ کا گزر ہو گا۔ اگر روکا بھی کہیں گیا تو نہایت نفیس اور نرم لہجے میں سلام دعا ہو گی ، مسکراہٹوں کا تبادلہ ہو گا اور بس۔ یہ ہماری نفسیات بن چکی ہے۔ کوئی سوال کرئے، بھئی آپ نے مرکزی شاہراہ پہ ہاتھ جڑ دیے کہ اگلے کے پاس کلٹس تھی، آپ پجارو میں تھے اگلے کے پاس لینڈ کروزر ہوتی، آپ کے پاس گارڈز کی ایک گاڑی ، اگلے کے پاس دو ہوتیں، کیا آپ کا لہجہ تب بھی ایسا ہوتا؟ آپ تب بھی اُسے ہاتھ جڑ سکتے تھے؟ معافی دوستیوں میں بندھے داؤد چوہان نے دے دی ہے لیکن داؤد چوہان کے صاحبزادے نے جو سوالات اس معاشرے سے کیے ہیں اُن کا جواب دینا کیا کسی کے بس میں ہے؟ نوجوان نے بس اِتنا پوچھا ہے فرض کیجیے میرے والد نہ فرووس شمیم نقوی کے دوست ہیں نہ نجیب ہارون کے کیا عام کسی شہری کو تھپڑ مارنے پہ بھی عمران علی اسی طرح معافی مانگنے جا سکتے تھے؟ سوال تو اہم ہے جواب ہمیں تلاش کرنا ہے۔ ورنہ تبدیلی کا ماتم ہی مل کے کر لیں گے۔

PTI

Imran ali shah

Tabool ads will show in this div