صوابی میں شہری کا ماورائے عدالت قتل، سی ٹی ڈی کیخلاف مقدمہ درج

[caption id="attachment_1241787" align="aligncenter" width="640"] نور الحق کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے[/caption]

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں گھر کے اندر ماورائے عدالت قتل ہونے والے شہری نورالحق کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے ’نامعلوم اہلکاروں‘ کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

تھانہ صوابی پولیس کے مطابق مقتول نور الحق کے بھائی ثاقب علی خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم ایف آئی آر میں کسی اہلکار یا افسر کو نامزد نہیں کیا گیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے احتجاج ختم کرکے مقتول کو سپرد خاک کردیا ہے۔

مقتول نورالحق کے بھائی ثاقب علی خان کے مطابق 14 اگست کی رات ’نامعلوم سی ٹی ڈی اہلکار‘ اس کے گھر میں گھس گئے اور بیوی بچوں کے سامنے ان کو گولی مار کر قتل کردیا اور لاش کو بوری میں بند کردیا۔

صبح جب اہل خانہ تھانہ پہنچے تو پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا جس پر ہزاروں افراد امن چوک صوابی میں لاش کے ہمراہ دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور جہانگیرہ مردان اور ٹوپی روڈ بند کردیا۔ 12 گھنٹے جاری احتجاج کے بعد حکام نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔

[caption id="attachment_1241792" align="aligncenter" width="640"] مظاہرین صوابی کے امن چوک پر سڑک کے درمیان قبر کھود رہے ہیں[/caption]

مظاہرین نے احتجاجا امن چوک پر سڑک کے درمیان قبر کی کھدائی شروع کردی اور اعلان کیا کہ مقدمہ درج نہ ہوا تو لاش کو سڑک کے درمیان دفنا دیا جائے گا۔ جس پر اعلیٰ حکام نے نوٹس لیکر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی۔

پولیس کمیٹی میں اعلیٰ حکام شامل تھے جبکہ مظاہرین نے ایک جرگہ تشکیل دیا جس میں مقتول کے اہل خانہ، سیاسی رہنما اور علاقہ عمائدین کو شامل کیا گیا۔

جرگہ اور پولیس افسران کے مابین کامیاب ہوئے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سی ٹی ڈی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ جس پر مظاہرین نے دھرنا ختم کرکے لاش کو دفنا دیا اور مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوگیا ہے۔

KPK

AIR FORCE

SAWABI

Tabool ads will show in this div