کالمز / بلاگ

پی ٹی آئی کے لیے عمران علی شاہ باعث شرمندگی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے انتخابات سے قبل کئی وعدے کئے گئے اُن میں سے ایک وعدہ سادگی اختیار کرنے کا بھی تھا، جس پر عمران خان بار بار زور دیتے رہے ہیں اور ماضی میں اِس حوالے سے بڑے دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں لیکن اب جبکہ وفاق سمیت تین صوبوں میں اُن کی حکومت بننے جارہی ہے ایسے میں اُن وعدوں پر عمل کرنا خان صاحب کے لیے چلینج بنتا جارہا ہے۔

اِنھی کئی وعدوں میں سے ایک وعدہ عمران خان نے وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا بھی کیا تھا جو کہ پورے ملک بلخصوص کراچی کے عوام کےلیے ایک عرصہ سے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے، کبھی کسی وزیر کے لئے وی آئی پی پروٹوکول کے سبب عوام سڑکوں پر مشکلیں جھیلتے نظر آئے ہیں تو کبھی کوئی غریب کسی گارڈ یا بااثر شخصیات کے تشدد کا نشانہ بنتے دکھائی دیا ہے، عمران خان ماضی میں وزراء کی جانب سے اختیار کئے گئے، اِن رویوں کی ہمیشہ سے مذمت کرتے آئے ہیں اور اپنی تقاریر میں وی آئی پی کلچر اور اہم شخصیات کے لئے بھاری پروٹوکول کے خلاف بات کرتے رہے ہیں، جبکہ اُن کی جانب سے ہمیشہ یہی دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ جس دن اُن کی حکومت آئیگی وہ اور اُنکی جماعت میں شامل لوگ اِس سٹیٹس کو کے سسٹم کا ہمیشہ کےلیے خاتمہ کردیں گے۔

لیکن کل پاکستان کے جشنِ آزادی جیسے اہم دن پر کراچی شہر میں پاکستان تحریک انصاف کے نو منتخب ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے جس طرح بیچ سڑک پر اپنے گارڈز اور دیگر لوگوں کی موجودگی میں ایک عام شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے عمران خان کی جانب سے عوام سے کئے گئے مذکورہ بالا دعووں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مذکورہ واقعہ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے

بہی عوامی حلقوں کی جانب سے عمران خان اور اُن کی جماعت پر فوری تنقید کا سلسلہ جاری ہوگیا، وڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی کے نو منتخب ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ اپنی گاڑی سے اتر کر گارڈز کی موجودگی میں عام شہری پر تھپڑوں کی بارش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عمران علی شاہ مشہور آرتھوپیڈک سرجن مرحوم ڈاکٹر محمد علی شاہ کے صاحبزادے ہیں،ڈاکٹر محمد علی شاہ دوہزار آٹھ سے دوہزار بارہ تک متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پر ایم پی اے رہ چکے ہیں. ان کے صاحبزادے جوکہ پیشے کے اعتبار سے اپنے والد صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ایک پڑھی لکھی انتہائی سلجھی ہوئی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، ڈاکٹر عمران علی شاہ حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حلقہ پی ایس 129 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، اِن کے بارے اطلاعات ہیں کہ یہ پہلے پاک سرزمین پارٹی کے ٹکٹ پر اِسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے تھے اور اِس حوالے سے پاک سرزمین پارٹی انھیں ٹکٹ دینے کو بھی تیار تھی لیکن پھر اچانک جانے کیا ہوا کہ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے اپنا ارادہ بدلا اور پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اِسی حلقے سے الیکشن کےلیے کھڑے ہوگئے۔

ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کو ڈاکٹر عمران علی شاہ کو چوبیس گھنٹے کے اندر جواب طلبی کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے. جبکہ سندھ کے نامزد گورنر عمران اسماعیل نے اِس حوالے سے فوری ایکشن لینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے. جبکہ دوسری جانب ڈاکٹر عمران علی شاہ نے جس شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اُس کے گھر جاکر اپنی غلطی کی معافی مانگ آئے ہیں. لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان کے صرف نوٹس لے لینے یا ڈاکٹر عمران علی شاہ کے معافی مانگ لینے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا، کیا اِس طرح کے اقدامات سے وی آئی پی کلچر اور بھاری پروٹوکول کو مزید فروغ نہیں ملے گا، اِس سے پہلے پنجاب میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو جیت کی خوشی میں ندیم بارا کے ڈیرے پر اندھادھند ہوائی فائرنگ کرتے دکھایا گیا تھا جبکہ پولیس کے روکنے پر اُلٹا پولیس کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا. ابھی حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت فردوس شیمم نقوی اپنے اتحادیوں کےلیے برے خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اُس وقت بھی عمران خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی بھی سرزنش کی تھی. لیکن باوجود اِن اقدامات اٹھانے کے پارٹی کی ساکھ کو متاثر ہونے سے بچایا نہیں جاسکتا عوام کے اندر منفی تاثر قائم ہونے سے روکا نہیں جاسکتا، لہذا عمران خان چاہتے ہیں کہ اُن کی جماعت تبدیلی کے نعرے کے ساتھ جڑی رہے تو عمران خان کو چاہئیے صرف نوٹسز سے کام نہ چلائیں ایسے عناصر سے ابھی سے جان چھڑالیں تو بہتر ہے جو پارٹی کےلیے باعث شرمندگی ہوں۔

 

PTI

MPA

Imran ali shah

Tabool ads will show in this div