ایون فیلڈ ریفرنس، فرد جرم کے مطابق دلائل دیئے جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

Aug 15, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/08/IHC-ns-Family-Appeal-Isb-Pkg-15-08.mp4"][/video]

ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز خاندان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر وکلاء صفائی کے دلائل مکمل ہوگئے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا یہ کیس منی لانڈرنگ کا نہیں، نیب نے فرد جرم نائن اے 5 کے تحت لگائی، دلائل بھی اسی حوالے سے دیئے جائیں، عدالت نے کیس سے متعلق غلط خبروں کا معاملہ ایف آئی کے حوالے بھی کردیا۔

نواز خاندان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں سماعت ہوئی، وکلاء صفائی خواجہ حارث اور امجد پرویز کے دلائل مکمل ہوگئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھائے کہ ٹرائل کورٹ میں ٹرسٹ ڈیڈ کس بنیاد پر جعلی قرار دی گئی؟، 2012ء میں بی وی آئی کو خط کیوں لکھا گیا؟، ذرائع آمدن بتائے بغیر اور جائیدادکی قیمت معلوم کئے بغیر جائزہ کیسے لے لیا گیا؟۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملزم نے کس سورس سے یہ اثاثہ بنایا تو یہ نیب کا کیس ہی نہیں، نیب نے فرد جرم نائن اے 5 کے تحت لگائی، استغاثہ جمعرات کو دلائل بھی اسی حوالے سے دے۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سوال اٹھایا کہ کیا بی وی آئی خطوط جعلی ہیں؟، ملزمان نے اگر یہ مؤقف نہیں لیا تو یہ ان کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے۔

کیس سے متعلق سوشل میڈیا پر غلط خبریں عدالت سے منسوب کئے جانے کا بھی سخت نوٹس لیا، تحقیقات کیلئے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوادیا گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جب عدالت کے باہر ٹرائل شروع ہو جائے تو وہ سنگین توہین عدالت ہے۔

AVENFIELD

Tabool ads will show in this div