چائے والا، شربت والا اور حقیقی شہر نشین

دور حاضر میں مختلف معاشروں میں سیاست کی مختلف تعریفیں مروج ہیں۔ سیاست یونانی لفظ ’’ساس‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی شہر نشیں کے ہیں یعنی اپنے حلقے، علاقے یا شہر کے حالات سے باخبر رہنے والا ایسا شخص جو شہریوں کے مسائل کی خبر گیری رکھنے کے ساتھ ساتھ انھیں اپنی فہم و فراست سے دور کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہو۔ یہی وہ تعریف ہے جس کی بنیاد پر سیاست کو سیاست برائے خدمت کا نام دیا جاتا ہے لیکن دنیا بھر میں سیاست کی مروج تعریفوں میں سے ایک تعریف یہ بھی ہے جس کے مطابق سیاست کسی جماعت کی جانب سے اختیار کی گئی۔ اس پالیسی کو کہا جاسکتا ہے جس کا مقصد اپنی بالادستی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست کی پہلی تعریف جو کہ سیاست برائے خدمت کے فلسفے پر کاربند تھی اب مکمل طور پر ناپید ہوچکی ہے جبکہ مذکورہ بالا دوسری تعریف پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے اور سیاست کی اِسی تعریف کو درست سمجھتے ہوئے اسے مکمل طور رائج کر دیا گیا ہے۔ سیاست اور انتخابی طریقہ کار کچھ اِس طرح کا ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے باعث ایوانوں میں چند مخصوص بااثر شخصیات اور خاندان کا ہی تسلط قائم ہوکر رہ گیا ہے۔ غریب و متوسط طبقے کی رسائی یا تو ممکن نہیں اور اگر ممکن ہے بھی تو نہ ہونے کے برابر ہے۔

پچھلے دنوں ایک چائے والا نو منتخب پارلیمنٹرین خبروں کی زینت بنتا دکھائی دیا۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر فاٹا کے علاقے این اے 41 ضلع باجوڑ سے کامیاب ہونے والا گل ظفر خان روالپنڈی میں ایک ہوٹل پر چائے بناتا ہے۔ جیسے ہی یہ خبر میڈیا پر چلی، عوامی حلقوں میں پی ٹی آئی کے اِس اقدام کو سراہا جانے لگا۔ لوگوں میں یہ تاثر قائم ہونے لگا عمران خان واقعی ملک میں تبدیلی لے کر آرہے ہیں۔ ایک غریب چائے والے کو پارلیمنٹ میں پہنچا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ اب ایوان اقتدار میں صرف چند مخصوص لوگوں کا تسلط قائم نہیں ہوگا بلکہ غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی نمائندگی بھی وہاں موجود ہوگی۔ ابھی اِس خبر کو پذیرائی مل ہی رہی تھی کہ اچانک میڈیا پر نو منتخب ایم این اے گل ظفر خان کے بارے میں میڈیا نے بتایا کہ یہ چائے والا کوئی غریب آدمی نہیں بلکہ کروڑ پتی تاجر ہے جس کا اصل کام چائے بنانا نہیں بلکہ کپڑوں کا کاروبار ہے۔ عوام یہ خبر سن کر ششدر رہ گئے جیسے اُن کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہو۔ جیسے لمحے بھر میں غریب سے ایوان بالا کی نمائندگی چھین لی گئی ہو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گل ظفر خان تین کروڑ سے زائد اثاثوں کا مالک ہے جو اُس نے خود کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کیے تھے۔ اِن تین کروڑ سے زائد کے اثاثوں میں گل ظفر خان کے پاس دو گھر، زرعی زمین، گاڑی، دس تولے سونا اور بیس لاکھ روپے کی نقدی موجود ہے جبکہ ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ گل ظفر خان کا پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر یہ پہلا الیکشن نہیں ہے۔ اِس سے پہلے دوہزار تیرہ میں بھی وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکا ہے لیکن کامیاب نہ ہوسکا تھا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی نے گل ظفر خان کو ایک غریب چائے والا سمجھ کر این اے 41 کا ٹکٹ دیا تھا یا ایک کروڑ پتی تاجر جان کر اسے قومی اسمبلی کا ممبر بنایا ہے۔ پی ٹی آئی کو چائے والے کی حقیقت معلوم تھی تو اسے پہلے ظاہر کیوں نہیں کیا گیا اور میڈیا پر کیوں اسے غریب چائے والا بتائے جانے پر خاموشی کے ساتھ عوام کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی رہیں جبکہ معلوم تھا کہ گل ظفر خان نے اپنے اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ڈکلیئر کیے ہوئے۔

اِسی طرح کی سیاسی شعبدہ بازی نوے کی دہائی میں متحدہ قومی موومنٹ نے غریب و متوسط طبقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے نام پر ایک گننے کا شربت بیچنے والے رشید بھیا کو اسمبلی میں پہنچاکر دکھائی تھی۔ لیکن کیا ہوا کیا اسکے اسمبلی پہنچنے سے غریب ومتوسط طبقے کی محرومی دور ہوگئی تھی؟ جیسا کہ میں شروع میں عرض کرچکا ہوں پاکستان میں سیاست کی اصل تعریف سیاست برائے خدمت کو اب مکمل طور پر بھلایا جاچکا ہے اور اِس کہ جگہ سیاست کی دوسری تعریف جس میں مفادات کی سیاست کو یقینی بنانا شامل ہے تمام سیاسی جماعتوں نے اسے اپنا لیا ہے۔

چونکہ لگاتے یہ سیاست برائے خدمت کا ہی نعرہ ہیں اِس لیے دکھاوے کےلیے یہ جماعتیں کبھی باجوڑ سے گل ظفر خان جیسے کروڑ پتی کو چائے والا غریب مزدور پیش کرکے عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکتے نظر آتے ہیں تو کبھی گننے کا شربت بیچنے والے رشید بھیا کو ایوان میں نمائندگی دلا کر غریب و متوسط طبقے کی احساسِ محرومی کو دور کرنے کا ڈرامہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے پاکستان کے عوام کو اپنی نمائندگی کےلیے کسی چائے والے کی ضرورت ہے نہ گننے کا شربت بینچنے والی کی۔ اگر ضرورت ہے تو ایک حقیقی شہر نشین کی جو سیاست کی اصل اور درست تعریف سے بخوبی آگاہ ہو جو سیاست برائے خدمت پر یقین رکھتے ہوئے شہریوں کے مسائل کی خبر گیری کے ساتھ ساتھ انھیں اپنی فہم و فراست سے دور کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہو۔

PTI

Politics

Bajur

tea maker

Tabool ads will show in this div