کالمز / بلاگ

نیا کراچی اور نیا کھیل

ڈاکٹر محمد علی شاہ کھیل کے بڑے شوقین تھے ، یہاں تک کہ انہوں نے ایم کیو ایم جیسی سخت مؤقف رکھنے والی جماعت سے بھی کسی نہ کسی طرح ٹکٹ حاصل کیا اور ایم پی اے بن کر وزیر کھیل کی منزل پائی۔ یہ پرانے کراچی کی بات ہے جب شہر میں گولیوں اور بارود کی بو چاروں طر ف پھیلی ہوا کرتی تھی۔

نیا کراچی بننے کی نویدالیکشن  2018 میں سننے میں جو آئی اس موقع پر ٹکٹ حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹرمحمد علی شاہ کے بیٹے عمران علی شاہ بھی سرفہرست تھے۔ اسمبلی میں جا کران کے کیا خواب ہوں گے یہ تو وہی جانتے ہوں گے مگر اپنی الیکشن کمپین تو انہوں نے خوب چلائی۔ باپ کا نام بھی ساتھ جڑا تھا جس سے سارا شہر واقف تھا تو ان کے حلقے کے لوگ کیسے نہ جانتے۔

پی ٹی آئی کا غلغلہ تو سارے ملک میں تھا،ٹکٹ کے لئے ان کا انتخاب پی ٹی آئی کیوں ٹہرا یہ ایک سوال ہے۔ کیا انہیں ایم کیو ایم سے ٹکٹ نہ ملا یا ان کی سوچ پرانے کراچی کو جہاں جرم تشدد اور لسانی تفریق عام تھی، نئے کراچی میں تبدیل کرنا تھا۔ نیا کراچی جس میں سب تبدیل ہو جائے گا۔مگر ہوا کیا ابھی حلف اٹھائے ایک روز بھی نہ ہوا تھا اور نئے کراچی کی طرف قدم بڑھا ہی تھا کہ نیا کراچی اور پرانا کھیل منظر عام پر آگیا۔ ایک عام دھان پان سے شہری پر نیشنل اسٹیڈیم کے سگنل پر تھپڑوں کی برسات۔ گویا ڈاکٹرمحمد علی شاہ کی روح بھی قبر میں تڑپ سی گئی ہوگی کہ عمران بیٹا تم نے یہ کیا کر دیا۔

وہ تو اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا اور موبائل پر ویڈیو کی سہولت عام ہونے سے کسی شہری نے فوری طور پر ویڈیو بنالی اور دیکھتے ہی دیکھتے وائرل بھی ہو گئی ورنہ کیا ہوتا کچھ بھی تو ہونا تھا۔ صاحب ایم پی اے جو ہیں۔

ٹھہریں یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے۔ ابھی دوسرا رخ تو مکمل سامنے آنا تھا۔ یہ بھی پتا لگنا تھا کہ انصاف کرنا تحریک انصاف کا کام ہے یا نہیں اور عوامی دباؤ نے اپنا کام کر دیا پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے فوری نوٹس لیا اور پل بھر میں ایم پی اے ایک عام شہری کے گھر پر اس سے ہاتھ جوڑے معافی مانگ رہا تھا۔عام آدمی سوچے گا کہ اس نے ایسا اس وجہ سے کیا کہ اسے اپنی اسمبلی کی ممبر شپ جو عزیز تھی۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ ہم نے شہری کی فریاد تو سنی ویڈیو میں عمران کو دیکھا کہ شہری کو تھپڑ مار مار کر اس کا حال برا کر رہا ہے۔ ہمیں عمران کی وضاحت کو بھی دیکھنا ہوگا۔ عمران کی ایک ہی غلطی ہے وہ اب عام آدمی نہیں ایک عوامی نمائندہ ہے۔ غلطی چاہے عمران کی نہ بھی ہو۔ سرینڈر ہر حال میں اسے ہی کرنا تھا۔ کراچی کا ووٹر ہی تو ہے جس نے عمران کو اسمبلی تک پہنچایا ہے۔

نہ صرف اب یہ عمران شاہ کو یاد رکھنا ہوگا بلکہ ہر ایم پی اے اور ایم این اے کو سمجھنا ہوگا کہ آپ کے اوپر عوام کی نظر ہے۔ وہ جو اکثر جگہوں پر لکھا ہوا کرتا ہے نا کہ خبردار کیمرہ کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے تو کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ کچھ نہیں چھپے گا ۔ سب کا احتساب ہوگا۔ سنبھل کرچلنا ہوگا اور دیکھ کر بولنا ہوگا کہیں آپ کے ساتھ کچھ ایسا نہ ہو جائے جس سے آپ نہ صرف بدنام ہوں بلکہ آپ آئندہ کبھی عوامی نمائندے ہی نہ بن سکیں ۔ پھر جو بھی ہوغلطی کسی کی بھی ہو،ایک ایم پی اے کو نئے کراچی میں شہری کے نمائندے کے طور پر ہی رہنا ہوگا۔ زمین پر خدا بننے کا وقت گیا، نیا کراچی اور پرانا کھیل نہیں چلے گا۔ نیا کراچی اور نیا کھیل ہوگا۔

PTI

Imran ali shah

Tabool ads will show in this div