بنگلہ دیش: ایک اور طالب علم ٹریفک حادثے کی نذر، پھر سے پرتشدد مظاہرے شروع

 

بنگلہ دیش میں ایک اور طالب علم کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے پھر سے بھڑک اٹھے ہیں۔ پولیس اور طالب علموں کے مابین جھڑپوں میں 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دو ہفتے قبل ایک ٹریفک حادثے میں 2 طالب علموں کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا اور یہ مظاہرے 8 دن تک جاری رہے جس کے باعث ملک بھر میں اسکول بند کردئے گئے۔

بنگلہ دیشی اخبار کے مطابق آج پھر ایک طالبعلم ٹریفک حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا جس کے نتیجے میں دوبارہ ملک گیر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رنگ پور شہر میں دسویں جماعت کا طالبعلم سائیکل پر سوار اسکول جارہا تھا کہ ایک بس نے پیچھے سے ٹکر مار دی جس کے باعث طالبعلم موقع پر دم توڑ گیا جبکہ ڈرائیور جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔

واقعہ کے بعد ارد گرد کے طالب لاش کے گرد جمع ہوگئے اور ڈھاکہ۔ رنگ پور موٹر وے ٹریفک کے لئے بند کر دیا اور متعدد گاڑیوں کا نقصان پہنچایا۔

پولیس نے احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ طالب علموں کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں2 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ میڈیا کو جاری کردہ بیان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور لائسنس کے بغیر بس چلا رہا تھا۔

BANGLADESH

Students Protest

road safety

traffic accidents

Tabool ads will show in this div