ماموں زئی متاثرین کی واپسی شروع، امداد نہ ملنے پر احتجاج

File Photo
File Photo
File Photo

قبائلی ضلع اورکزئی کے اپر تحصیل کے دور افتادہ علاقہ ماموں زئی کے متاثرین کی واپسی کا عمل جمعہ سے شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ روز 186 خاندان اپنے آبائی علاقہ پہنچ گئے جبکہ متاثرین نے ناقص انتظامات اور بحالی کے لیے مالی معاونت نہ ملنے پر احتجاج کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر اپر تحصیل حیدر حسین کے مطابق دور افتادہ علاقہ ماموں زئی کے متاثرین کی 10 سال بعد اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں 10 اگست کو جبہ، گوٹا خیل، کچ گڑھی، لاٹو کلی، تیزئی کلی، اخون زادگان، اوٹ میلہ اور تالئے کلی کے 186خاندان واپس پہنچ چکے ہیں۔ متاثرین کے واپسی کا یہ عمل 10 اگست سے 20 اگست تک جاری رہے گا۔

ماموں زئی متاثرین کے لئے انٹری چیک پوسٹ یخ کنڈو کے مقام پر بنایا گیا ہے۔ انٹری چیک پوسٹ کے علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہے۔

واضح رہے کہ ضلع اورکزئی میں دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کا آغاز اسی علاقے سے ہوا تھا اور پھر قلیل وقت میں طالبان نے پورے اورکزئی علاقے پر قبضہ کر لیا جن کے خلاف آپریشن کے باعث مقامی لوگوں کے گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے تھے۔

دوسری جانب واپس جانے والے متاثرین نے اورکزئی انتظامیہ کے ناقص انتظامات پر شدید تنقید کی ہے جبکہ بحالی کے لیے امداد نہ ملنے پر احتجاج کیا ہے۔

security forces

TDPs

Khyber Pakhtunkhawa

Tabool ads will show in this div