فیصل آباد پولیس مقابلے میں ہلاک طلباء کا مقدمہ درج

  فیصل آباد میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک طلباء ارسلان اور عثمان کے قتل کا مقدمہ بیس گھنٹوں بعد درج کر لیا گیا ہے۔ عثمان اور ارسلان نے پندرہ روز پہلے ہی اچھے نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا ۔  مقابلے میں جاں بحق عثمان خود پولیس کانسٹبل کا بیٹا تھا ۔ والد کہتا ہے اگر ان کا معصوم بیٹا ڈاکو ثابت ہوجائے تو وہ کوئی کیس نہیں کریں گے۔ مقدمہ تھانہ ملت ٹاون میں پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں اے ایس آئی جاوید اختر، اصغرعلی، فلک شیر، وقاص اور فیصل نامزد ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، دونوں طالب علم کل بدھ کی رات کو شوراما کھا کر آہستہ آہستہ آرہے تھے کہ پولیس نے انہیں دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی جس سے دونوں زخمی ہو گئے۔ ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے کہ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکار موقع سے فرار ہو گئے۔ ایف آئی آر کے مطابق، محمد ارسلان موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ جبکہ عثمان اسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔ دونوں بچوں کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ اس سے پہلے لواحقین نے بچوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا۔ اور مبینہ مقابلے کے شکار بچوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کرنے اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اہلخانہ نے الزام لگایا تھا سولہ گھنٹوں کے بعد بھی پوسٹ مارٹم مکمل نہ ہوسکا۔ اور پولیس معاملے کو دبانا چاہتی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق، دونوں بچوں کی نماز جنازہ نو بجے ادا کی جائے گی۔

students killed in police encounter

Faisalabad police

asi munawwar

Tabool ads will show in this div