فیصل آباد: پولیس مقابلے میں طلبا کی ہلاکت، احتجاج جاری

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/08/Bpr-Shaheen-Shehzadi-09-08.mp4"][/video] [caption id="attachment_1233572" align="alignnone" width="640"] Photo source: Samaa/Shaheen Shahzadi[/caption] فیصل آباد میں پولیس گردی دو طالب علموں کی جان لے گئی ۔ جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوانوں نے چند دن پہلے ہی اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کیا تھا۔ گھر والوں نے الائیڈ اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا۔ اور حکومت سے انصاف اپیل کردی۔ رشتے دار کہتے ہیں کہ شورما کھانے گئے تھے اور اور لاش بن کر واپس آئے ۔ فیصل آباد میں پولیس نے مقابلے میں ڈاکو کہ کر دو نوعمر لڑکے مار دیے ۔ عثمان اور ارسلان نے پندرہ روز پہلے ہی اچھے نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا ۔ بچوں کی ہلاکت پر گھر والوں اور اہل علاقہ نے الائیڈ اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا۔ پولیس گردی کیخلاف نعرے لگائے ۔ سڑک آگ لگا کر بند کردی۔ گاڑیوں کو روکا۔ گھروالوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اسپتال کر باہر ایک دوسرے سے گلے مل کر روتے رہے۔ مقابلے میں جاں بحق عثمان خود پولیس کانسٹبل کا بیٹا تھا ۔ والد کہتا ہے اگر ان کا معصوم بیٹا ڈاکو ثابت ہوجائے تو وہ کوئی کیس نہیں کریں گے۔ رات گئے ہوئے پیش آئے واقعے کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ دو ڈاکوؤں نے پہلے فائرنگ کی تھی۔ اہل علاقہ کہتے ہیں کہ پولیس نے بےجا معصوموں کو نشانہ بنایا ۔ حکومت انصاف کرے ۔ سماء کی نمائدہ شاہین شہزادی کے مطابق، مشتعل مظاہرین نے مردہ خانے میں گھنسے کی کوشش کی ہے ۔ پولیس نے مردہ خانے کا مرکزی گیٹ بند کردیا ہے۔ مقتول عثمان تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ جسے نے نو سو پچانوے مارکس حاصل کر کے میٹرک کے امتحان میں اے پلس گریڈ حاصل کیا تھا۔ [caption id="attachment_1233662" align="alignnone" width="530"] photo source: Samaa/Shaheen Shahzadi[/caption]

students killed in police encounter

Faisalabad police

Tabool ads will show in this div