نسل پرستوں کا پاکستانی طالب علم پر حملہ

آسٹریلیا کی یونی ورسٹی نیوکاسل میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علم پر نسل پرستوں نے حملہ کرکے اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

مغربی میڈیا سے جاری خبروں کے مطابق آسٹریلیا میں کالاگن کے علاقے میں قائم نیو کاسل یونی ورسٹی میں نسل پرستوں کی جانب سے تشدد کا واقعہ اس وقت پیش آیا، جب 23 سالہ پاکستانی طالب علم عبداللہ قیصر یونی ورسٹی سے گھر کی جانب اپنی گاڑی میں رواں دواں تھا، کہ کیمپس کے باہر نامعلوم افراد کی جانب سے اس کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 23 برس کے عبداللہ قیصر کو نیوکاسل یونیورسٹی کی لائبریری جاتے ہوئے نسل پرستوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

تشدد کے بعد نسل پرستوں نے عبداللہ قیصر کو کہا کہ جاؤ پاکستان جاؤ، تمہارا یہاں سے کوئی تعلق نہیں اور عبداللہ قیصر کی گاڑی کو بھی گھیر لیا، جب کہ ایک خاتون نے موبائل فون بھی چھین لیا۔

عبداللہ قیصر نیم بے ہوشی کے عالم میں گاڑی خود چلا کر یونی ورسٹی کے فرسٹ ایڈ روم پہنچا۔ خیال رہے کہ عبداللہ قیصر انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پچھلے سال فروری میں نیوکاسل آئے تھے۔

واقعہ کے خلاف بڑی تعداد میں سیاہ فام اور دیگر غیر ملکیوں نے نسل پرستی کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صرف طالب علم ہیں، ان طالب علموں کا سیاست اور سیاسی رہنماوں سے کوئی لینا دینا نہیں، انہیں تعلیم حاصل کرنے دی جائے اور ہراساں نہ کیا جائے۔

دوسری جانب پولیس نے واقعہ کو نسل پرستی کا رنگ رینے سے انکار کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک وہ واقعہ میں ملوث خاتون اور مرد سے تفتیش نہیں کرلیتے وہ اسے نسل پرستی قرار نہیں دے سکتے۔ پولیس کا مزید کہنا تھا کہ موصول اطلاعات کے مطابق حملے میں ملوث شخص چوڑا اور اس کے بلونڈ بال تھے، جب کہ خاتون نے پونی بنائی ہوئی تھی اور اس کے بھی بلاونڈ اور لمبے بال تحے۔ دونوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ اگر کسی بھی شخص کو کوئی اطلاع ملتی ہے یا کوئی معلومات ہے تو وہ اس فون نمبر 1800333000 پر رابطہ کرسکتا ہے۔

university

pakistani student

abdullah qaisar

new castle

Tabool ads will show in this div