گلگت: لڑکیوں کے اسکول جلانے کے واقعات کے پیچھے کون ہیں؟

گلگت بلتستان کا شمار فرقہ واریت کے حوالے سے پاکستان کے حساس ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس خطے میں مجموعی طور پر اثناء عشری شیعہ اور اسماعیلی شیعہ برادری کی اکثریت ہے۔ خطے کے 10 اضلاع میں سے صرف ضلع دیامر میں سو فیصد سنی آباد ہیں۔ ضلع ہنزہ میں نوے فیصد سے زیادہ اسماعیلی ہیں جب کہ بقیہ 8 اضلاع میں شیعہ سنی مخلوط آبادی ہے تاہم زیادہ تر میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ یہ علاقہ پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کا گیٹ وے بھی کہلاتا ہے اور سی پیک کے کئی اہم منصوبے یہاں زیرِ تعمیر ہیں۔ اس کے ساتھ دیامر بھاشا ڈیم بھی یہاں بن رہا ہے جس کی ہنگامی تعمیر کے لیے پاکستان کے چیف جسٹس نے خود ہی فنڈ قائم کیا ہے۔

ماضی میں گلگت بلتسان زیادہ تر فرقہ وارانہ فسادات اور ٹارگٹ کلنگ کے باعث خبروں میں رہا۔ جہاں شہریوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد گولی مار کر قتل کیا جاتا تھا۔ اس قسم کے زیادہ تر واقعات دیامر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے کیوں کہ شاہراہ ریشم پر گلگت میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ضلع دیامر واقع ہے تاہم گزشتہ روز دیامر میں رات گئے شرپسندوں نے لڑکیوں کے 13 اسکولوں پر حملہ کیا جن میں بعض کو نذرآتش کردیا جبکہ متعدد کو دیسی بموں سے اڑایا گیا۔ ان اسکولوں میں بعض زیر تعمیر جبکہ دیگر فعال تھے۔ اس واقعے کے بعد گلگت بلستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سرجوڑ کر بیٹھے ہیں اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے واقعے کی رپورٹ طلب کی جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔

دیامیر گلگت بلستان کا ایک ڈویژن ہے جس میں دو اضلاع شامل ہیں۔ ایک استور اور دوسرے ضلع کا نام بھی دیامر ہی ہے۔ دیامر میں شرح خواندگی دیگر علاقوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ گلگت بلتستان کا پسماندہ ترین علاقہ بھی دیامر ہی ہے۔ جس کے باعث شرپسندوں کے لیے یہ علاقہ محفوظ ترین تصور کیا جاتا ہے۔

کیا گلگلت بلتستان میں لڑکیوں کے اسکول جلانے کا واقعہ پہلی بار پیش آیا اور اس کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں۔ ان کی سرپرسی کون کر رہا ہے اور حکومتی سطح پر ایسے عناصر کی بیخ کنی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

اس بارے میں گلگت سے تعلق رکھنے والے صحافی اور سماء ٹی وی کے نمائندہ منظر شگری کہتے ہیں کہ ’’ اس سے قبل 1998 میں دیامر کے علاقوں داریل، تانگیر اور تھور نالہ و دیگر میں لڑکیوں کے 6 اسکولوں کو ایک ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد 2004 اور 2011 میں لڑکیوں کے اسکولوں پر حملے ہوئے۔ چلاس سٹی میں واقع گرلز مڈل اسکول تکیہ کو 6 بار نذرآتش کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم و دیگر شعبہ جات میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز) کو دھمکیاں دے کر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا لیکن ان واقعات میں ملوث ایک بھی ملزم آج تک گرفتار نہ ہوسکا۔‘‘

جولائی 2014 میں اس علاقے میں فوج نے بھی کارروائیاں کیں جب دو درجن سے زائد شرپسندوں نے رات کے وقت داریل تھانے پر حملہ کردیا اور پولیس والوں کو باندھ کر ان کا اسلحہ و دیگر سامان اپنے ساتھ لے گئے۔ اس واقعہ نے پورے ملک کی توجہ ایک بار پھر دیامر کی طرف موڑ دی اور بالآخر 8 جولائی 2014 کو پاک فوج نے دیامر کی جنگلوں میں سرچ آپریشن کا آغاز کردیا۔

 منظر شگری نے ایک دلچسپت بات بتائی کہ ’’علاقہ داریل لوگ دانش ( Folk Wisdom) کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں اگر دانش کی بات آجائے تو لوگ داریل کی مثال دیتے ہیں۔‘‘

لوک دانش کے سرخیل ہونے کے باجود اس علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم ناپسندیدہ کیوں ہے؟ منظر شگری اس کو مولانا صوفی محمد کی کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کا اثر و رسوخ قرار دیتے ہیں۔

مولانا صوفی محمد کی 1994 میں شروع ہونے والی تحریک لڑکیوں کی تعلیم کی سخت مخالف تھی۔ اس تحریک کو خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستانی اضلاع میں بھرپور پذیرائی ملی۔ قدامت پسندی اور سخت گیر معاشرتی اقدار کے حامل کوہستانی اضلاع اس تحریک کے لیے زرخیز زمین ثابت ہوئے۔

دیامر اور خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ ان دونوں علاقوں میں رسوم رواج ایک جیسے ہیں۔ لوگوں کا مائنڈسیٹ ایک جیسا ہے۔ قبائلی اور معاشرتی اقدار مشترک ہیں جس کے باعث صوفی محمد کی تحریک نے گلگت بلتسان کے علاقہ دیامر میں بھی جڑیں مضبوط کرلیں اور 1998 میں پہلی بار 6 اسکولوں کو جلایا گیا اور اس قسم کے واقعات معمول بنتے چلے گئے۔

گلگت بلستان کے معروف شاعر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق نے سما ڈجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرا تعلق بھی دیامر سے ہے اور میں اس وقت بھی دیامر میں بیٹھا ہوں۔ بدقسمتی سے ایک طرف ان سرگرمیوں میں ملوث شرپسند عناصر مقامی لوگ ہی ہیں۔ ان کی باقاعدہ پرورش کی گئی اور مقامی آبادی نے ان شرپسندوں کی ہر مذموم کارروائی پر ان کی حمایت کی اور ان کو گراونڈ فراہم کیا دوسری جانب حکومت نے ہمیشہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی سے اجتناب کیا جس کے باعث ان کے حوصلے بڑھتے چلے گئے۔‘‘

فیض اللہ فراق نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ماضی میں لوگ ان شرپسندوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے لیکن آج حالات یکسر بدل گئے ہیں۔ گزشتہ روز کے واقعہ کے بعد دیامر کے مختلف علاقوں کے مقامی لوگ سڑکوں پر نکل کر شرپسندوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہاں تک کے شرپسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔‘‘

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ محمد شریف کہتے ہیں ’’ جب شرپسند عناصر ریاست سے نفرت اور بغاوت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس مقصد کے لیےآسان ہدف کو نشانہ بناکر حکومت کو پیغام دیتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ ایسی حرکتوں سے اپنی ہی محرومی کا سامان کر رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہنزہ میں شرح خواندگی 90 فیصد جبکہ دیامر میں 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی وجوہات میں سے ایک دیامر کے لوگوں کی سخت گیر روایات بھی ہیں اور اسی سخت گیری نے نے انتہا پنسدی کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔‘‘

محمد شریف مزید کہتے ہیں کہ ’’ دیامر کے لوگ اپنی بچیوں کو مدارس میں تو بھیجتے ہیں لیکن اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں خاتون ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔ حکومتی عملداری کم ہونے کے باعث سیکیورٹی خدشات زیادہ ہیں جس کی وجہ سے باہر سے خواتین ڈاکٹرز یہاں آکر ڈیوٹی کرنے سے گریز کرتی ہیں۔‘‘

وہ حکومت پر زور دیتے ہیں کہ دیامر کو مزید ’علاقہ غیر‘ رکھنے کے بجائے اپنی علمداری قائم کریں تاکہ انتہاپسندی کا مستقل خاتمہ ہوجائے

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دیامر کا علاقہ اہل سنت والجماعت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تنظیم کے مرکزی رہنما اورنگزیب فاروقی نے لڑکیوں کے اسکول جلانے کی مذمت کی ہے۔ اہل سنت والجماعت کے مرکزی ترجمان عمر معاویہ نے سما ڈجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ خواتین اور مردوں کو تعلیم کے یکساں مواقع ملنے چاہئے۔ ہم خواتین کے حصول تعلیم پر زور دیتے ہیں اور اسکول جلانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں‘‘

عمر معاویہ کے مطابق دیامر ماضی میں بدامنی کا شکار رہا تاہم 2013 کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال مثالی ہے۔ اسکول جلانے کے حالیہ واقعات دیامر بھاشا ڈیم کے خلاف سازش ہے تاکہ بدامنی پھیلاکر ڈیم کی تعمیر میں روڑے اٹکائے جاسکیں۔

شرپسند عناصر کی بیخ کنی کے لیے کیا حکومت سنجیدہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں فیض اللہ فراق نے کہا کہ گزشتہ روز کے واقعات کے بعد اعلیٰ حکام سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ مسلسل چھاپے، محاصرے اور آپریشنز کئے جارہے ہیں۔ مقامی جرگہ کو 15 شرپسندوں کی فہرست فراہم کی ہے۔ اگر جرگے نے ان افراد کو سیکیورٹی اداروں کے حوالے نہیں کیا تو پھر علاقہ میں بھرپور آپریشن کا آغاز ہوگا۔

آخری اطلاعات کے مطابق پولیس نے حملوں میں ملوث 8 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن کو داریل اور تانگیر کے تھانوں میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی آباد آپریشن میں بھرپور تعاون کر رہی ہے۔

Tabool ads will show in this div