اسامہ دہشت گردی کی طرف کیسے مائل ہوئے، کہانی والدہ کی زبانی

Aug 03, 2018

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن آج بھی دنیا کیلئے دہشت کی علامت سمجھے جاتے ہیں تاہم ان کی والدہ انہیں آج بھی ایک شرمیلے اور پڑھاکو نوجوان کی حیثیت سے یاد رکھتی ہیں۔

اسامہ بن لادن کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا جوانی میں ایک مضبوط دماغ کا حامل اور پرہیزگار نوجوان تھا۔

عالیہ غنیم نے برطانوی اخبار دی گارجین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے اور وہیں ان کی شخصیت میں بنیاد پرستی کی آمیزش سامنے آئی۔

عالیہ کا دعویٰ ہے کہ جدہ میں واقع عبدالعزیز یونیورسٹی میں لوگوں نے ان کے بیٹے کو تبدیل کردیا، انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کا بیٹا ایک جہادی بن جائے گا اور ان کا خاندان اس بات پر کافی پریشان بھی تھا۔

اسامہ کی والدہ کا مزید کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ سب اس طرح ہو۔

اسامہ کے چھوٹے بھائی حسن بھی اپنی والدہ کے ساتھ جدہ میں ہی مقیم ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی 80ء کی دہائی میں ایک عزت دار شخصیت تھے، جب انہوں نے روسی فوج سے لڑنے کیلئے افغانستان کی طرف رخت سفر باندھا۔

حسن نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ افغان جہاد کے ابتدائی دنوں میں جو بھی اسامہ سے ملتا تھا ان کی عزت کرتا تھا اور یہ ہمارے لئے باعث فخر بات تھی، یہاں تک کے سعودی حکومت بھی انہیں ایک معزز اور عزت دار شہری کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔

اسامہ بن لادن کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی اسامہ سے آخری ملاقات 1999ء میں قندھار شہر کے باہر ایک ایئر پورٹ کے قریب ہوئی۔

اسامہ بن لادن کی موت کو 7 سال گزر چکے ہیں اور اب ان کا سب سے چھوٹا بیٹا حمزہ بن لادن القاعدہ کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آرہا ہے، وہ ابھی اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری کے زیرسایہ ہے۔

حمزہ بن لادن کے چچا حسن چاہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا اسامہ بن لادن کے نقش قدم پر نہ چلے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حمزہ بن لادن میرے سامنے ہوتے تو میں انہیں سمجھاتا کہ خدا تمہیں ہدایت دے، جو تم کررہے ہو وہ کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچ لینا اور اپنے والد کا راستہ اختیار مت کرنا۔

USA

TALIBAN

ALQAEDA

Saudi Arab

Alia Ghanem

Osama`s Mother

Tabool ads will show in this div