اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم اور اسپیکر کیلئے مشترکہ امیدوار لانے پر متفق

وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف مشترکہ امیدوار لانے پر متفق ہوگئیں، انتخابی دھاندلی کیخلاف ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کا بھی فیصلہ کرلیا گیا، شیری رحمان کہتی ہیں کہ وزیراعظم کا امیدوار ن لیگ، اسپیکر پیپلزپارٹی اور ڈپٹی اسپکر ایم ایم اے سے ہوگا۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ 16 رکنی کمیٹی مشترکہ حکمت عملی تیار کرے گی، ہم بتائیں گے حقیقی اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کیخلاف ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی، متحدہ مجلس عمل، نیشنل پارٹی سمیت دیگر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئیں، مشترکہ اجلاس میں تمام جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اجلاس میں انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں ٹف ٹائم دینے پر غور کیا گیا، سیاسی جماعتوں نے اجلاس میں اہم فیصلے کرلئے، انتخابات کو غیر شفاف اور قار دیتے ہوئے 16 رکنی کمیٹی قائم کردی جو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

شیری رحمان، احسن اقبال، لیاقت بلوچ، عبدالغفور حیدری سمیت دیگر رہنماؤں نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کیلئے اپوزیشن نے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ کرلیا۔

پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا امیدوار مسلم لیگ ن، اسپیکر پیپلزپارٹی اور ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار ایم ایم اے سے ہوگا، تمام جماعتوں نے مشترکہ امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے، مختلف نکات پر بھی اتفاق ہوا ہے، ایوان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کیا جائے گا، مضبوط جمہوری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن پاکستان کا آر ٹی ایس سسٹم بند نہیں ہوا، بند کیا گیا، نتائج منظور نہیں، جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔

اے این پی رہنماء میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ہم جارحانہ نہيں دفاعی موڈ ميں ہيں۔

مسلم لیگ ن کی مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ ہم بتائیں گے جمہوری اعداد و آداب کیا ہوتے ہیں، اب ہم دکھائیں گے کہ حقیقی اپوزیشن کیا ہوتی ہے، 5 سال سڑکوں پر رہنے والوں نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ کی حکمت عملی کیلئے 16 رکنی مشترکہ کمیٹی تشکیل دیدی۔

ایم ایم اے رہنماء لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ عجیب الیکشن ہوا جیتنے والے حیران اور ہارنے والے پریشان ہیں۔

الیکشن 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، قومی اسمبلی میں 120 سے زائد نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی سر فہرست ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا دوسرا اور پی پی پی کا تیسرا نمبر ہے۔

خیبرپختونخوا میں سادہ اکثریت کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف حکومت بنارہی ہے جبکہ پنجاب میں اپنا وزیراعلیٰ لانے کیلئے بھی پی ٹی آئی نمبرز پورے کررہی ہے، بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کی حمایت سے مخلوط حکومت قائم ہوگی۔

PM

PTI

ELECTION

ballot papers

Election 2018

joint opposition

#GE2018

NA 247

Tabool ads will show in this div