اڈیالہ میں لیگی رہنماؤں کی نواز شریف سے ملاقات

Aug 02, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/08/NS-ADIYALA-MEETINGS-ISB-PKG-02-08.mp4"][/video] جمعرات آئی تو لیگی رہنماؤں کو اپنے قیدی قائد سے ملنے کا موقع مل گیا۔ بڑی تعداد میں سابق وزراء اور موجودہ مئیرز کی نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدر سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل آئے۔ کچھ اندر چلے گئے اور باقی پر جیل کے دروازے نہ کھل سکے۔ جیل میں جمعرات کا دن ملاقات کا دن ہوتا ہے۔ نواز شریف کی پمز سے اڈیالہ جیل سے واپسی کے بعد ملاقات کے لیے لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کا ہجوم امڈ آیا۔ نواز شریف کی قید کو تیسرا ہفتہ جاری ہے۔ شہباز شریف، خواجہ آصف، ایاز صادق، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، جاوید ہاشمی اور دیگر رہنما اور فیملی ممبران ملاقات کے لیے پہنچے ۔ احسن اقبال نے ایک بار پھر انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھا دیا۔ کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرہ کو بہت عزت ملی ہے. ووٹ کو عزت ملنے کی بنا پر ہم اسمبلی میں پہنچ رہے ہیں۔ اگر انتخابات شفاف ہوتے تو مرکز اور پنجاب میں بھی ہمیں کوئی نہ روک سکتا۔ عظمیٰ بخاری، دانیال عزیز اور میاں جاوید لطیف کے لیے جیل کے دروازے نہ کھل سکے۔ قائد سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر عظمیٰ بخاری تو پھٹ پڑیں۔ کہتی ہیں مجھے تیسری بار ملاقات سے روکا گیا ہے سیکرٹری داخلہ اور سپریٹنڈنت اڈیالہ کو خطوط تک لکھے. جیل کے باہر کھڑے اہلکاروں نے مجھے سے بدتمیزی کی اور جیل کے باہر کھڑے نہیں ہونے دے رہے. پمزکے میڈیکل بورڈ نے جیل میں نواز شریف کا بھر طبی معائنہ کیا۔ میاں صاحب کی ای سی جی، بلڈ اور شوگر کے مزید ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

PML N