کالمز / بلاگ

پاکستان تحریک انصاف اور بہادر آباد کے بہادر

انتخابات کے پرامن انعقاد کے بعد انتخابی عمل تو مکمل ہوا۔ لیکن انتخابی نتائج اور حکومت سازی کا عمل ابھی بھی درد سر بنا ہوا ہے۔کہنے کو تو پاکستان تحریک انصاف کو دیگر جماعتوں کی نسبت واضح برتری حاصل ہے لیکن اتنی بھی واضح نہیں ہے کہ اکیلے حکومت سازی کےعمل کو ممکن بنا سکےلہذا دیگر جماعتوں کے ساتھ ایک مخلوط حکومت بنانے کے علاوہ اِس کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہےلیکن یہاں تحریک انصاف کے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ کس کواپنااتحادی بنائے۔ماضی میں جن جماعتوں پرتحریک انصاف نےباریاں لینےاور مک مکا کی سیاست کرنے جیسے الزامات لگاکر اپنے لیے جو راستہ ہموار کیا ہے آج اگر ان ہی  کے ساتھ مک مکا کربیٹھے تو یہ تحریک انصاف کی جانب سے خود اپنے اوپر ایک بڑا سیاسی خودکش حملہ ہوگا۔اِس ممکنہ خودکشی سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کی جانب سےسیاسی جوڑ توڑ اور ریزگاریاں جمع کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔آزادامیدواروں سے لیکر سات آٹھ سیٹوں پرمشتمل الائنس اور جماعتوں کو ترجیح دئیے جانے پر زور ہے۔ اِن ہی  میں ایک ستم گزیدہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان شامل ہے جس نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی چھ اور سندھ سے صوبائی اسمبلی کی پندرہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ سمجھ نہیں آتاکہ تحریک انصاف کی جانب سے اِس قدر عزت افزائی پر اِسے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی خوش قسمتی سمجھا جائے یا پھر پاکستان تحریک انصاف کی بدقسمتی۔دوہزارتیرہ میں قومی اسمبلی کی چوبیس اور صوبائی اسمبلی کی باون نشستوں کی حامل اِسی جماعت کو یہی تحریک انصاف ٹارگٹ کلرز قبضہ گروپ اور بھتہ خور مافیا کا ٹولہ گردانتی تھی،آج جب کراچی کے عوام نے انھیں مسترد کرکے پاکستان تحریک انصاف کو کراچی کی تقدیر بدلنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو ایسے میں تحریک انصاف ایک بار پھر کراچی کی ٹھیکداری انھی لوگوں کے ہاتھوں میں سونپتی نظر آتی ہے۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کراچی سے اپنی سیٹیں کم کرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رہنے پر اندر ہی اندر پھولے نہیں سما رہی ہے۔اب تک کی خبروں کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے غیر مشروط طور پر وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ایم کیوایم کا وفاق میں حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کا مطلب ہے کہ وہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کےکنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے یہ فیصلہ کراچی کے عوام کے مفاد میں کیا ہے تاکہ کراچی کے عوام کے بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوسکیں لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ایم کیوایم نے یہ فیصلہ کراچی کے عوام کے مفاد میں کیا ہے یا اِس کے پیچھے پارٹی کا اپنا ذاتی مفاد وابستہ ہے۔یہاں یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ وفاق کراچی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر کس حد تک حل کرسکتا ہے اور کس طرح وہ کراچی کے معاملات میں بلواسطہ یا بلاواسطہ دخل دینے کا مجاز ہےجبکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت لوکل گورنمنٹ اور دیگر اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہیں اور صوبے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہوگی۔موجودہ صورتحال کے پیش نظر تو یہ نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی کراچی کے مسائل پر کوئی خاص توجہ دےگی۔ یہ جانتے ہوئےبھی کہ کراچی کےعوام نےہمیشہ کی طرح اِس بار بھی اسے مسترد کردیا ہے،اوپر سےمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان نےسندھ میں تحریک انصاف کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کرکے ایک جانب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو مضبوط کیا ہے تو دوسری جانب سندھ میں بیٹھی حزب اختلاف کی بڑی جماعت تحریک انصاف کو سندھ حکومت کو ٹف ٹائم دینےکیلیے کاندھا فراہم کیا ہے،ایسے میں وہ بھلا کیونکر کراچی کے مسائل پر توجہ دینے لگے۔ پیپلزپارٹی ہمیشہ سے کراچی کے معاملات میں ایم کیوایم سے ساز باز کرتی آئی ہے اور وہ اِسی کی عادی ہے لیکن اِس بار چونکہ کراچی سے اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے جسے پیپلزپارٹی اپنے لیے بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہی ہے۔اِس سے پہلے ایم کیوایم نے جب بھی کراچی کے مسائل پر بات کی یا اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تو پیپلزپارٹی کی جانب سے ہر بار ایک مخصوص پروپیگنڈے کے تحت اُن کی بات کو مسترد کیا جاتا رہا لیکن کیا یہ رویہ وہ قومی سطح کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اپنا سکے گی۔ یقیناً ایسا کرنااُس کیلیےمشکل ہوگالیکن اگر تحریک انصاف کراچی کے معاملے پر ایک سخت موقف اختیار کرلیتی ہے تو ممکن ہے ایسے میں پیپلزپارٹی اندرون سندھ کے عوام کو تحریک انصاف کے بارے میں بھڑکائے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرے کہ تحریک انصاف اردو بولنے والوں کی حامی جماعت ہے تاکہ اندرون سندھ تحریک انصاف کی مقبولیت کے گراف کو گرایا جاسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ لمحہ ہوگا جب تحریک انصاف کراچی کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجائے گی کیونکہ اس کی اولین ترجیح اندرون سندھ اپنی پارٹی کو مضبوط بنانا ہے۔اگر واقعی ایسی صورتحال پیداہوجاتی ہےتو پھرایم کیوایم اور کراچی کے عوام کا اگلا سیاسی قدم کیا ہوگا دونوں کو اِس پر ابھی سے غوروفکر شروع کردینی چاہئے۔

PTI

Tabool ads will show in this div