بلوچستان عوامی پارٹی میں معاملات طے پا گئے؟

گزشتہ روز بی اے پی  کے چند اراکین کی جانب سے جام کمال کو وزرات اعلیٰ کا امیدوار نامزد کرنے پر پارٹی میں شدید اختلاف سامنے آئے تھے۔

بلوچستان کی نوزائیدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں اختلافات کی خبریں دم توڑنے لگی ہیں،بنی گالہ میں پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین کی جانب سے بی اے پی کے مرکزی صدر جام کمال کو وزرات اعلیٰ کا امیدوار نامزد کرنے پر پارٹی کے کچھ اراکین کی جانب سےشدید اختلافات سامنے آئے تھے جس کے بعد یہ خبریں بھی گرم تھیں کہ بی اے پی کے ان ناراض اراکین کا جھکاؤ بی این پی مینگل اور ایم ایم اے کے اتحاد کی جانب ہونے لگا ہے،مگر اب خبریں سامنے آرہی ہیں کہ گزشتہ شب ہونے والے بی اے پی کے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی اختلافات کو باہمی مشاروت کے بعد ختم کر دیا گیا ہے اور اب ایک بار پھر وزرات اعلیٰ کے لیے بی اے پی کی جانب سے مرکزی صدر جام کمال کے نام پر ہی اتفاق کیا گیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزرائے اعلیٰ جان جمالی،صالح بھوتانی اور قدوس بزنجو کو اہم وزراتیں سونپے جانے کے حوالے سےبھی بات کی گئی تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

parliamentary committee

forward block

BAP

sardar Akhtar menagl

BNP Mengal

Jam Kamal Khan

Balochistan government formation

Tabool ads will show in this div