الیکشن ہوگئے، جمہوریت زندہ باد

تجزیہ: فضل الہی

پچیس جولائی سے ایک دن پہلے تک بھی یہی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ الیکشن مقررہ وقت پر نہیں ہوں گے۔ عوام کے ذہنوں میں بھی یہی سوالات گھوم رہے تھے کہ الیکشن ہوں گے یا ملتوی ہوں گے؟ خیر اب الیکشن بھی ہوگئے اور نتائج بھی سامنے آچکے ہیں۔ مقررہ وقت پر پرامن طریقے سے الیکشن کے انعقاد پر نگراں حکومت، الیکشن کمیشن آف پاکستان، مسلح افواج سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ مقررہ وقت پر الیکشن کے انعقاد میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کردار بہت اہم رہا۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے الیکشن کو ملتوی کرنے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا آئینی کردار ادا کیا اور الیکشن میں تاخیر کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کردار بھی بہت نیوٹرل رہا اور الیکشن کمیشن نے بھی الیکشن میں تاخیر کے تمام تر حربے ناکام بنا دیئے جس پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان اور ان کی پوری ٹیم لائق تحسین اور مبارکباد کی مستحق ہے۔

پہلے یہ شور برپا تھا کہ الیکشن مقررہ وقت پر نہیں ہوں گے لیکن اب جب الیکشن ہوگئے ہیں تو سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کا شور مچایا جا رہا ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور مچایا ہے شاید یہ بھی سیاسی جماعتوں کی سیاسی پالیسی کا حصہ ہے کہ جیتنے والے کی جیت قبول نہیں کی جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کوئی سیاستدان یہ کیسے تسلیم کر سکتا ہے کہ انکی جماعت کو عوام نے مسترد کردیا ہے۔ سیاسی جماعتیں دھاندلی کے الزامات لگا کر عوام یا اداروں کو نہیں دراصل خود کو تسلی دے رہی ہوتی ہیں۔

تحریک انصاف کو پورے پاکستان سے تاریخی کامیابی ملی ہے اور تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام چھوٹی بڑی، سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن کو غیر منصفانہ اور غیر شفاف قرار دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کی 64 نشستیں حاصل کی ہیں اور پنجاب اسمبلی کی سب سے زیادہ 129 نشستیں حاصل کی ہیں مگر پھر بھی دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی قومی اسمبلی کی 43 نشستیں اور سندھ اسمبلی کی 76 نشستیں حاصل کی ہیں اور صوبائی حکومت بنانے کے لئے سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے مگر اس کے باوجود دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے اور چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ متحدہ مجلس عمل پاکستان، ایم کیو ایم پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی سمیت اہم سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی الیکشن کے نتائج کو مسترد کرچکی ہیں اور دھاندلی کا رونا رو رہی ہیں۔ اگر ایک لمحے کے لئے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو پھر مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کی 64 نشستیں اور پنجاب اسمبلی کی 129 نشستیں حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوگئی؟ یا تو پھر مسلم لیگ (ن) کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ انہوں نے بھی دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ پیپلز پارٹی بھی قومی اسمبلی کی 43 نشستیں اور سندھ اسمبلی کی 76 نشستیں حاصل کر کے ایک طرف سندھ کے اگلے وزیراعلی کے لئے نام کا اعلان کررہی ہے تو دوسری طرف الیکشن کے نتائج کو مسترد کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی اگر سمجھتی ہے کہ الیکشن میں واقعی دھاندلی ہوئی تو وہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود ان تمام نشستوں سے مستعفی ہو جہاں وہ کامیاب ہوئی ہے یا پھر دھاندلی کا شور نا مچائے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ نتائج کو تسلیم کریں اور جمہوریت زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایوان میں بیٹھیں اور عوام کی خدمت کریں۔

ECP

PTI

Politics

election pakistan

Tabool ads will show in this div