بنگلہ دیشی اور روہنگیا پناہ گزینوں کو گولی مارنی چاہیے، بھارتی رہنما

بھارتیہ جنتا پارٹی ( بے جی پی) کے رہنما اور ریاست تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے رکن راجا سنگھ نے کہا ہے کہ اگر بنگلہ دیشی اور روہنگیا ’پناہ گرین‘ انڈیا چھوڑ کر چلے نہیں جاتے تو ان کو گولیاں مار کر ختم کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بھارت میں 40 ہزار روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں جبکہ بنگلہ دیشیوں کے بارے میں مستند معلومات نہ مل سکی۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے بارے میں پہلے بھی بھارتی رہنما سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔

گزشتہ روز تلنگانہ کی ریاستی قانون ساز اسمبلی میں بحث کے دوران بے جی کے رکن نے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی اور روہنگیا پناہ گزینوں کو عزت سے واپس بھیجا جائے۔ اگر وہ نہیں جانا چاہتے تو سب کو گولیاں مار کر ختم کردینا چاہئے۔

اس پر کانگریس کے رکن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ بنگلہ دیشن میں پناہ گزین روہنگیا متاثرین کے لیے تو ’آپریشن انسانیت‘ کر رہی ہے۔ کیا ہم اپنے ملک میں موجود 40 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ بھی ’انسانیت‘ والا سلوک نہیں کرسکتے؟۔

آپریشن انسانیت گزشتہ برس اس وقت شروع ہوا جب میانمار کی سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا کے خلاف آپریشن شروع کردیا اور ان کی بڑی تعداد نے بنگلہ دیش میں پناہ لی۔ اس دوران بھارتی حکومت نے ان پناہ گزینوں کو سہولیات فراہم کرنے میں بنگلہ دیش کی مدد کی جس کو آپریشن انسانیت کا نام دیا گیا۔

KILLING

STATE TERRORISM

bangla desh

Tabool ads will show in this div