کالمز / بلاگ

ترکی میں قید پاکستانیوں کی فریاد

April 8, 2016, 202 migrants are deported from Greece to Turkey, among them the biggest group was 130 Pakistanis, followed by 42 Afghans, the rest from Iran, Congo, Sri Lanka, Bangladesh and India.
April 8, 2016, 202 migrants are deported from Greece to Turkey, among them the biggest group was 130 Pakistanis, followed by 42 Afghans, the rest from Iran, Congo, Sri Lanka, Bangladesh and India.

بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے وطن کو چھوڑ کے یورپ، امریکا اور دوسرے ممالک میں جانے والے پاکستانی نوجوانوں کی زندگی کے ساتھ کئی داستانیں جڑی ہوئی ہیں، ان میں بہت سارے ایسے ہوتے ہیں جو 20، 22 سال کی عمر میں کسی نہ کسی طرح دیار غیر پہنچ تو جاتے ہیں مگر عمر ڈھل جانے کے بعد بھی اپنے وطن واپس نہیں آسکتے، اس دوران ان کے بوڑھے والدین بھی انتقال کر جاتے ہیں اور اگلی نسل بھی جوان ہو جاتی ہے جو ان کیلئے اجنبی ہی رہتی ہے۔

قانونی طریقے سے دوسرے ممالک میں پہنچ کر سیاسی پناہ کے خواہشمندوں کو اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق علاج معالجے اور مناسب مالی امداد کے ساتھ جب رہائش کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تو ان کی حالت قابل دید ہوتی ہے، نئے معاشرے میں وہ تنہائی کا شکار بھی ہوتے ہیں اور نئے ملک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے طویل مدت عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے بھی اکتا جاتے ہیں۔

بیرون ملک جانے والے ابتدائی 5 سال گزرنے تک نہ تو وہ اپنے ملک واپس آ سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس ملک کی شہریت حاصل کرنے تک مناسب روزگار مل سکتا ہے، مگر ان ممالک میں غیر قانونی طریقوں سے داخل ہونیوالے نوجوان تو ابتداء سے ہی سے مشکلات میں گھر جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر معقول رقم دینے کے بعد ایسے ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں رات کی تاریکی میں سمندری سفر یا کسی اور غیر قانونی طریقے سے ایک ملک سے دوسرے ملک اور پھر مطلوبہ ملک تک پہنچانے کا وعدہ تو کرتے ہیں لیکن اس مدت میں انہیں جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا علم اگر انہیں پہلے سے ہوجائے تو وہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع کر دیں۔

غیر قانونی طریقے سے مغربی ممالک میں داخل ہونیوالے زیادہ تر نوجوان یا تو گرفتاری کے بعد جیل میں ڈال دیئے جاتے ہیں یا انہیں ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے، ماضی میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے ذریعے کمزور کشتیوں پر سفر کرنے والے ایسے بہت سارے پاکستانی نوجوان سمندر کی بے رحم لہروں کا شکاربن چکے ہیں جو اپنے بوڑھے والدین کو اکیلا چھوڑ کر یورپ کی شہریت حاصل کرنے کے شوق میں گھر سے نکلے تھے، یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، جس کی مثال ترکی کے عثمانیہ کیمپ میں قید وہ 1600 پاکستانی ہیں جو مطلوبہ ممالک تک پہنچنے کی خواہش لے کر گھر سے نکلے مگر ایک کیمپ تک محدود کر دیئے گئے اور اب اپنے ملک واپس آنے کیلئے وڈیو پیغامات کے ذریعے نئے وزیر اعظم سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔

پاکستان سے انتہائی قریبی اور دوستانہ تعلقات رکھنے والے ملک ترکی کے عثمانیہ کیمپ میں پھنسے ان بے یار و مدد گار نوجوانوں کے وڈیو پیغامات سامنے آنے کے بعد حکومتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت اس لیے سامنے نہیں آئی کہ وہ الیکشن کے مسائل سے نمٹنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔

نئی حکومت تشکیل پانے میں شاید دو ہفتے مزید لگ جائیں مگر کسی بھی ملک کی پالیسیوں کا تعلق نئے یا پرانے وزیر اعظم کے بجائے حکومت سے ہوتا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف ترکی کے کیمپوں میں پھنسے ہوئے نوجوانوں کو جلد از جلد اپنے ملک واپس لانے کا بندوبست کرے بلکہ ان کی مدد سے ایسے ایجنٹوں کو بھی گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے جو طویل مدت سے ایسے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے ساتھ ان کے بوڑھے والدین کو اذیتیں دینے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

illegal

oversease

Tabool ads will show in this div