آپریشن سے قبل امن مذاکرات کو مناسب موقع ملنا چاہئے، سیاستدانوں و ماہرین کی رائے

ویب ڈیسک


کراچی : سیاستدانوں اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے قبل امن مذاکرات کو مناسب موقع ملنا چاہئے۔ معین الدین حیدر کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کیلئے 6 سے 8 ہفتے کا وقت دینا چاہئے، پیشرفت نہ ہونے پر کارروائی کی جائے، شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ  روزانہ حملے میں ہمارے شہری اور فوجی شہید ہورہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف اب ایکشن ہونا چاہئے، شاہی سید نے کہا ہے کہ آئین و قانون کو نہ ماننے والوں سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں، فوج میں آر یا پار کی سوچ پیدا ہوگئی۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ مذاکرات کیلئے رضا مندی درست فیصلہ ہے، وزیراعظم کی جانب سے قائم کمیٹی کے پاس معاہدے کے اختیارات نہیں ہوں گے تاہم وہ طالبان کا رابطہ حکومتی اداروں سے کروا سکتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا سلسلہ صبر و برداشت سے باہر ہوتا جارہا ہے، پاکستانی قوم اس عفریت کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات چاہتی ہے، دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب ہورہا ہے۔


معین الدین حیدر کہتے ہیں کہ اچھا ماحول پیدا کرنے کیلئے ابتدائی طور پر دونوں طرف سے سیز فائر ہونا چاہئے، طالبان مسلح افواج کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے، پاکستان میں مسلمان رہتے ہیں، ہمارا آئین کفار کا نہیں اسلامی ہے، ہمارے ہاں غیر ملکی دہشت گرد بھی موجود ہیں وہ یہاں سے جانے پر کبھی تیار نہیں ہوں گے، ان کیخلاف آپریشن کرنا ہوگا۔


ان کا کہنا ہے کہ فاٹا کو 65 سالوں میں پاکستان کا حصہ بنانے پر توجہ نہیں دی گئی، دشمن ممالک بھی پاکستان میں دہشت گردی پر لوگوں کو اکساتے ہیں، فوج میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حتمی اور واضح سوچ موجود ہے، انہیں عوام کی مکمل حمایت درکار ہوگی۔


سابق گورنر سندھ نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کیلئے 6 سے 8 ہفتے کا وقت مناسب ہوگا، اس دوران پیشرفت ہونی چاہئے، ناکامی کی صورت میں مارچ اور اپریل تک انٹیلی جنس مکمل ہونے کے بعد آپریشن کیا جاسکتا ہے۔


پیپلزپارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ امن کیلئے ہماری پالیسی واضح ہے، پاکستان کے ہر سرکاری و نجی ادارے، مساجد و امام بارگاہوں پر حملے ہورہے ہیں، ہمارے شہری اور فورسز کے اہلکار شہید ہورہے ہیں، اب حکومت کو ایکشن کرنا چاہئے۔


وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، وزیر داخلہ، مولانا سمیع الحق، فضل الرحمان اور سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی بنانی چاہئے تھی، پیپلزپارٹی حکومت نے صوفی محمد سے مذاکات میں ناکامی پر سوات میں آپریشن کیا، حکومت کی رٹ ہر حال میں بحال ہونی چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کو ماننے والوں سے مذاکرات کرنے چاہئیں، طالبان کی شرائط پر مذاکرات مناسب نہیں، عوام کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہئے، اس پر سمجھوتہ کرکے مذاکرات نہ کئے جائیں۔


شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی دہشت گروں کیخلاف ہر جگہ کارروائی کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کرے گی، وزیراعظم کو طالبان سے مذاکرات کیلئے ٹائم فریم کا بھی اعلان کرنا چاہئے تھا، کمیٹی کو 15، 20 دن میں کامیابی نہ ملے تو فیصلہ کن کارروائی شروع کردینی چاہئے۔


اے این پی کے رہنما اور سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں ہوسکتے، طالبان بندوق رکھیں، آئین و قانون کو نہ ماننے والوں سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔


انہوں نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی بنا کر گیند طالبان کے کورٹ میں ڈال دی، مجھے لگتا ہے کہ فوج میں آر یا پار کی سوچ پیدا ہوگئی ہے، کچھ سیاسی جماعتیں اب بھی کیفیوژن کا شکار ہیں۔


سی پی ایل سی چیف احمد چنائے نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے، فورسز پر حملے کراچی آپریشن کا رد عمل ہیں، رواں ماہ شہر میں 28 پولیس و رینجرز اہلکار شہید ہوئے۔


انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں کو روکنے کیلئے دہشت گردوں کی نرسریوں کا خاتمہ ضروری ہے، جہاں جہاں علم ہوتا ہے فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں، ہمیں اپنا دفاع ضرور کرنا چاہئے، اس انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہئے کہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ سماء

کی

شوبز

کو

سے

screening

Tabool ads will show in this div