کالمز / بلاگ

انتشار کی سیاست یا استحکام کی جانب قدم

(COMBO) This combination of pictures created on July 19, 2018 shows Shahbaz Sharif (L), brother of Pakistan's then-prime minister Nawaz Sharif, addressing the media after appearing before the anti-corruption commission at the Federal Judicial Academy in Islamabad on June 17, 2017; Bilawal Bhutto Zardari (C), the son of Pakistani president Asif Ali and late president Benazir Bhutto, in front of a portrait of his assassinated mother (back), as he opens the Donations Point at the Pakistani High Commission in London fo
(COMBO) This combination of pictures created on July 19, 2018 shows Shahbaz Sharif (L), brother of Pakistan's then-prime minister Nawaz Sharif, addressing the media after appearing before the anti-corruption commission at the Federal Judicial Academy in Islamabad on June 17, 2017; Bilawal Bhutto Zardari (C), the son of Pakistani president Asif Ali and late president Benazir Bhutto, in front of a portrait of his assassinated mother (back), as he opens the Donations Point at the Pakistani High Commission in London fo

یہ اندازہ ضرور تھا کہ تحریک انصاف کا جادو چلے گا مگر ایسے کمال سے چلے گا یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ سونامی کی لہریں چلیں اور وہ بھی ایسے طوفانی انداز سے، کہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئیں۔ کل تک جو بڑے بڑے جغادری تجزیہ کررہے تھے آج وہ بھی حیران دکھائی دیتےہیں۔ بالآخریقین نے گمان کو چاروں شانے چت کردیا اور پاکستان میں جمہوریت نے ایک اور سنگ میل عبور کرلی۔

سونامی کی طوفانی موجوں نے صرف ایک صوبے کو ہی نہیں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لاہور میں شریفوں کے قلعے میں دراڑ سے لیکر کراچی میں ایم کیو ایم کی باڑ تک، سونامی نے سب کچھ الٹا پلٹا کے رکھ دیا۔ بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ انتخابی دنگل میں نامی گرامی سیاست دان پٹ گئے۔ ایسی ہوتی ہے عوامی طاقت اور ایسی ہوتی ہے عوام کی حاکمیت۔

پہلے ہی ذکر کیا تھا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہوچکے ہیں یہ اب کسی کے لاروں لپوں میں نہیں آنے والے۔ جس نے کارکردگی دکھائی اسے ووٹ ملا۔ جس نے عوام کے لیے کچھ کیا اس کی نیا پار ہوگئی جس نے اپنی جیبیں بھرِیں اس کی کشتی بیچ منجدھار ڈوب گئی۔

کپتان لوگوں کے دلوں کا سلطان ضرور بنے ہیں مگر یاد رہے کہ اقتدار پھولوں کا تاج نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔ یہاں تک پہنچنا مشکل تو اسے سنبھالنا اور بھی مشکل ہے۔ پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کرلی ہے مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان اس وقت مختلف مشکلات میں گھِرا ہے۔ کیا کپتان اینڈ ٹیم نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہوم ورک کرلیا ہے؟

عمران خان کو جو پہلا چیلنج درپیش ہے وہ ہے ملکی کمزور معیشت میں بہتری لانےکا۔ معاشی معاملات پر نظررکھنے والوں کے مطابق پاکستان کے اقتصادی معاملات بہت خوفناک ہیں۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا، ڈالر کی اونچی اڑان کو روکنا، روپے کی قدر میں بہتری لانااور افراط زر پر قابو پانا یقیناً آسان نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف جس نے ہمیشہ اسٹیٹس کے خلاف نعرہ لگایا کیا معاشی میدان میں بھی کوئی غیرروایتی راستہ اپنائے گی؟  یا وہ بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح چلتی کا نام گاڑی رکھتے ہوئے آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لینے کی پالیسی اپنائے گی؟ نئی سرکار کو ان تمام چیلنجزسے نمٹنا بہت مشکل ہوگا اور معیشت سے منسلک تمام سیکٹرز میں بڑے پیمانے پراصلاحات کرنے کا بیڑہ اٹھانا ہوگا۔

خارجی محاذ پر بھی نئی سرکار کو کڑی آزمائشیں درپیش ہیں۔ شرپسند ہمسائے بھارت سے حل طلب امور پربات چیت، افغانستان سے دراندازی روکنے سمیت وہاں قیام امن کے لیے اقدامات، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن، سعودی عرب اور ایران سمیت مشرق وسطیٰ میں کردار، دوست ممالک میں اضافہ اور حریف ممالک کو سفارتی محاذ پر پچھاڑنے کے لیے بڑے اقدامات کرنا ہونگے۔

اندرونی صورتحال بھی اطمینان بخش دکھائی نہیں دے رہی۔ جے یو آئی ف اور ن لیگ سمیت کئی جماعتوں نے دھاندلی کی گردان شروع کردی ہے  اور اپنے ان الزامات کو تقویت بخشنے کے لیے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھ  لیں کہ گزشتہ انتخابات میں جو نعرے تحریک انصاف لگا رہی تھی وہ طوفان اب حریف جماعتوں نے مچا رکھا ہے۔ مگر عمران خان نے وکٹری اسپیچ میں بڑی سمجھ داری کی بات کی کہ جنہیں بھی دھاندلی کا شبہ ہو وہ اس معاملے میں ہرقسم کے تعاون کے لیے تیارہیں۔

شریف برادران کو بھی میں ناں مانوں کے ورد سے کچھ نہیں ملے گا۔ ساون کی اس بھیگی رت میں میاں صاحبان کشمیری چائے کی چسکیاں لیں اور سوچیں کہ وہ سرزمین جو ان کے لیے گوہربار تھی، جو ان کے لیے خاص اور راس تھی۔ جہاں آب وہوا انہیں ہشاشت بشاشت بخشتی تھی۔ وہ دھرتی جس کے باسی ان کے چاہنے والے تھے، ان کے متوالے تھے انہیں کیوں دغا دے گئے؟ وہ کل جس کی یاد میں یہ بے کل ہورہےہیں۔ وہ تخت تاج جس کی تڑپ میں آج یہ دہائیاں دے رہےہیں۔ اس کا مالک آج کوئی اور کیوں ہے؟ حادثات ایسے رونما نہیں ہوتے۔ وقت کی کوکھ میں برسوں پرورش پاتے ہیں۔

 کل تک یہ طاقت سے سرشار تھے تو ماڈل ٹاؤن کے قتل عام سمیت کرپشن کا طوفان سب کچھ جائز تھا۔ آج یہ بے بس ہیں تو مظلومیت کا ڈھونگ؟ یہ کسی یونانی المیہ ڈرامے کا ذکر نہیں ایک جماعت کے سورج غروب ہونے اور دوسری جماعت کے طلوع ہونے کا معاملہ ہے۔

دھاندلی کے الزامات، شور شرابہ، پی اوز اور آراوز کی جانبداری پرسوالات اوراحتجاج کی دھمکیاں ۔۔ کب تک آخر کب تک؟ پاکستان کے عوام پر رحم کریں اور اس ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھنے دیں۔ ابھی جو فیصلہ کن گھڑی سرپرکھڑی ہے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ انتشار کی سیاست کرتے ہوئے نظام کا تیاپانچہ کرنا ہے یا استحکام کی جانب قدم بڑھانا ہے۔

PTI

IMRAN KHAN

elections 2018

Tabool ads will show in this div