تحریک انصاف، واحد وفاقی جماعت

Jul 28, 2018

تحریر: نازیہ ناز

ملکی تاریخ کے شفاف ترین الیکشن 2018 کے نتائج سامنے آگئے ہیں اور اب تک پاکستان تحریک انصاف 116 نشستوں کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) 62 نشستوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہے۔ پیپلز پارٹی نے توقعات سے زیادہ 43 نشستیں حاصل کیں جبکہ متحدہ مجلس عمل پاکستان نے صرف 12 نشستیں حاصل کیں۔ 25 جولائی کو نئے پاکستان کا سورج طلوع ہوا تو نئے اور نوجوان امیدواروں نے پرانے اور سینئر ترین سیاستدانوں کو تاریخی شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔

الیکشن 2018 میں سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی اور سید یوسف رضا گیلانی، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام، غلام احمد بلور، قمر زمان کائرہ،  سمیت بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ سب سے حیران کن نتیجہ پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری سے آیا جہاں پیپلز پارٹی کے سابق کارکن عبدالشکور شاد نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو عبرتناک شکست دے کر تاریخ رقم کردی۔ عبدالشکور شاد نے حال ہی میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

کراچی کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم پاکستان قومی اسمبلی کی صرف چھ نشستیں حاصل کرسکی جسے الیکشن 2018 میں بھی کراچی کی فیورٹ جماعت سمجھا جا رہا تھا مگر تبدیلی کی لہر نے کراچی کے سیاسی منظرنامے کو بھی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ تحریک انصاف سندھ کی دوسری اور کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ تحریک انصاف کے عام امیدواروں نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے نامی گرامی رہنماؤں کو عزیز آباد، ملیر اور لیاری سے شکست دے کر ثابت کردیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔

خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی جماعت نے مسلسل دوسری مرتبہ صوبے میں حکومت قائم کی ہو۔ تحریک انصاف نے صوبائی اسمبلی کی 66 نشستیں لیکر صوبائی اسمبلی میں سادہ اکثریت بھی حاصل کرلی اور خیبرپختونخوا کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت ملی ہو۔ ایم ایم اے 10، اے این پی 6، مسلم لیگ (ن) 5 اور پیپل پارٹی صرف چار سیٹیں حاصل کرسکی۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 127 سیٹیں حاصل کرسکی جبکہ تحریک انصاف 122 سیٹیں حاصل کرچکی ہے اور پنجاب میں حکومت بنانے کا اعلان بھی کرچکی ہے مگر آزاد امیدواروں اور مسلم لیگ (ق) کے 7 اراکین کو ملا کر تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ عمران خان کے نئے پاکستان میں جو لوگ اپنی برادری پر فخر کرتے تھے اور اپنی برادری کے لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے تھے انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ سردار اویس لغاری کو تحریک انصاف کی ایک خاتون رکن نے شکست دے کر یہ ثابت کردیا کہ نئے پاکستان میں کوئی سردار یا وڈیرہ نہیں بلکہ ایک عام آدمی طاقتور ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کو 2013 کے الیکشن سے زیادہ بہتر نتائج ملے اور پیپلز پارٹی 74 اراکین کے ساتھ سندھ میں ایک مرتبہ پھر حکومت قائم کرنے جارہی ہے مگر پیپلز پارٹی کو لاڑکانہ، ملیر اور لیاری سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 22 نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف صوبے کی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے پچھلے الیکشن کی نسبت زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں مگر پھر بھی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نہیں بنا سکے گی جبکہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اپنا اپوزیشن لیڈر نہیں لاسکے گی۔

تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے کے علاوہ دو صوبوں میں حکومت قائم کرے گی، بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ بنے گی اور سندھ میں اپوزیشن کا رول نبھائے گی۔ تحریک انصاف واحد وفاقی جماعت بن کر سامنے آچکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک صوبے تک محدود ہوگئی ہیں۔

PTI

Politics

PUNJAB

IMRAN KHAN

federal govt

Naya Pakistan

Tabool ads will show in this div