کالمز / بلاگ

سال 2018 کےانتخابات میں نوجوان اورخواتین

Pakistani voters line-up to vote at a polling station in Rawalpindi on July 25, 2018.
Polls opened July 25 in a tense, unpredictable Pakistani election that could be former World Cup cricketer Imran Khan's best shot at power, after a campaign marred by allegations of military interference and a series of deadly attacks. / AFP PHOTO / FAROOQ NAEEM
Pakistani voters line-up to vote at a polling station in Rawalpindi on July 25, 2018. Polls opened July 25 in a tense, unpredictable Pakistani election that could be former World Cup cricketer Imran Khan's best shot at power, after a campaign marred by allegations of military interference and a series of deadly attacks. / AFP PHOTO / FAROOQ NAEEM

عام انتخابات 2018 میں پاکستانی خواتین اور پہلی دفعہ ووٹ ڈالنے والے افراد کا حکومت بنانے میں اہم کردار ادا ہو گا۔ 25 جولائی کو ساڑھے 10 کروڑ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں 4 کروڑ 67 لاکھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی توجہ خواتین اور پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے افراد کی حمایت حاصل کرنے پر ہے۔

20 سالہ فاطمہ بھی پاکستان میں رجسٹرڈ 4 کروڑ 67 لاکھ 30 ہزار خواتین ووٹرز میں سے ایک ہیں جن کا کہنا ہے کہ آزمائے ہوئے لوگوں کو آزمانے کے بجائے نئے لوگوں کو ووٹ دینا چاہیے۔ 19 سالہ سویرا کنول کہتی ہیں کہ میں تبدیلی کے لئے ووٹ دوں گی اور اپنے ووٹ کی طاقت سے کرپٹ سیاستدانوں کو ملکی سیاست سے باہر کروں گی۔ یہ وہ اعتماد ہے جس کی ہر پاکستانی کو ضرورت ہے کیونکہ ہمارے درمیان بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان اکیلے کے ووٹ دینے سے نظام نہیں بدل سکتا، شاید ایسے لوگ اپنے ووٹ کی طاقت سے ناواقف ہیں۔

2013 کے انتخابات کے مقابلے میں پاکستان میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ گیلپ پاکستان کے مطابق اس بار انتخابات میں 68 فیصد اور پلس کنسلٹنٹ کے مطابق 80 فیصد خواتین اپنا جمہوری حق استعمال کریں گی۔ ان دونوں سروے میں خواتین نے امید ظاہر کی ہے کہ الیکشن 2018 ملک میں مثبت تبدیلی لائے گا۔ میری بیٹیوں نے بھی اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے پچھلے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے بجائے گھر پر بیٹھنے کو ترجیح دی تھی۔

میری پوری قوم سے اپیل ہے کہ الیکشن والے دن باہر نکلیں اور ووٹ کاسٹ کریں۔ خواتین پاکستان کی کل آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ ہیں لہٰذا اگر انتخابات میں ان کی مکمل نمائندگی نہیں ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک کے نصف شہریوں کی آواز اس میں شامل نہیں۔ اگر ہم ملکی انتخابی تاریخ پر نظر ڈالے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں بہت سے حلقوں کے پولنگ اسٹیشنوں میں خواتین کے ڈالنے پر پابندی لگائی گئی۔ یہ پابندی مقامی جرگوں اور قبائل کی جانب سے عائد کی گئی لیکن اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ جہاں کہیں بھی خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا وہاں الیکشن کالعدم قرار دے دیئے جائیں گے، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔

گیلپ سروے کے مطابق سب سے زیادہ خواتین جس سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کی خواہش رکھتی ہیں وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔ سروے میں شامل 26 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کی خواہش رکھتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں 24 فیصد خواتین نے پاکستان تحریک انصاف جبکہ 18 فیصد خواتین نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی پسند بتایا۔ پلس کے سروے میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) خواتین کی پسندیدہ ترین جماعت رہی جہاں 32 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گی جبکہ 24 فیصد نے تحریک انصاف اور 17 فیصد نے پیپلز پارٹی کی حمایت کی۔

کسی بھی ادارے کے سروے کو سو فیصد درست قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ سروے پوری قوم کا نہیں چند مخصوص لوگوں کا ہوتا ہے اس لئے خواتین کی اکثریت کس کے ساتھ ہے یہ تو الیکشن والے دن ہی پتا چلے گا یا نتائج دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکے گا کیونکہ خواتین کا ووٹ فیصلہ کن ووٹ ہوگا جو کسی بھی جماعت کے لئے فائدے یا نقصان کا باعث ثابت ہو سکتا ہے۔ الیکشن 2018 میں خواتین اور نوجوان کا ووٹ ہی ملک کی نئی قیادت کو منتخب کرے گا جس کا فیصلہ اب سے چند گھنٹوں بعد ہوگا۔

elections 2018

Tabool ads will show in this div