کالمز / بلاگ

ڈالر کی پرواز،ملک میں مہنگائی کے طوفان کا پیش خیمہ

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور

ڈالر کی پرواز نے ایک بار پھر مہنگائی کے طوفان کا عندیہ دے دیا ہے انٹر بنک میں ٹریڈنگ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھتی ہی جا رہی ہے اسے اگر قابو میں نہ رکھا گیا تو اس کا براہ راست اثر صارفین اور ہماری معشیت پر پڑے گا اس کے علاوہ ہمارے قرضوں کا حجم بھی بڑھ جائے گا جنہیں ادا کرنے میں ہمیں مشکل پیش آ سکتی ہے 2017 کے آخر تک ڈالر کی قیمت 107 روپے تھی جو اب بڑھ کر اوپن مارکیٹ میں 128 روپے تک پہنچ چکی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس سے اوپر تک چلی جائے جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں مزید کمی آنے کا اندیشہ موجود ہے موجودہ نگران حکومت نے روپے کی قدر میں 5% کمی کی تھی اس لئے ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہو گا پہلے ہی عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں عاجز ہے اور مزید مہنگائی اس کے لئے جینا دوبر کر دے گی ابھی تک نگران حکومت نے قرضے نہیں لئے لیکن قرضوں کے بغیر ہی ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے عوام پر 8 کھرب روپے کا اضافی بوجھ بڑھ گیا ہے اور اگر نگران حکومت قرضہ لے لیتی ہے تو اس بوجھ میں مزید اضافہ ہو جائے گامیری سمجھ میں ایک بات نہیں آتی جو حکومت بھی آتی ہے اسے ملک چلانے کے لئے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے ہم اپنے وسائل میں اضافہ کرنے پر توجہ کیوں نہیں دیتے کیا یہ ملک اسی طرح قرضوں پرچلتا رہے گا آخر کسی کو تو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کے قرضوں میں کیسے کمی لائے جائے بلکہ ان سے کیسے مکمل اور ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کیا جائے ہمارا ملک ایک ترقی پذیر ملک ہے ہمیں غیر ضروری اخراجات میں کمی لانی ہو گی ملک کے موجودہ وسائل میں رہ کر کام کرنا ہو گا ہمیں اپنی معشیت کو مظبوط بنانا ہو گا اب تک ہم جتنے قرضے لے چکے ہیں اگر انہیں ملک کی معشیت مظبوط بنانے پر صرف کیا ہوتا تو آج ملک کے حالا ت مختلف ہوتے ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک آج ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں میرا مطلب چین،ملائیشیا اور کوریا کی جانب ہے ہم میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے ہم دنیا کی بہترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں لیکن آج تک ہم ترقی کیوں نہیں کر سکے اس کی وجہ ہمیں جاننی ہو گی مجھے امید ہے کہ آنے والی حکومت اب اس پر ضرور غور کرے گی آنے والی حکومت کا پہلا کام ملک کے بڑھتے قرضوں میں کمی لانی ہوگی اور رفتہ رفتہ ان سے جان چھڑانی ہو گی اس کے علاوہ ملک کی معشیت کو مظبوط کرنا ہو گا اگر ہماری معشیت مظبوط ہو گی تو ہمارے روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہو گا ورنہ موجودہ حالات میں پاکستانی روپیہ جنوبی ایشیا کی سب سے کمزور ترین کرنسی بن چکی ہے ۔

ڈالر کی قیمت بڑھنے سے تمام کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ پٹرول ،ڈیزل ،مٹی کا تیل ،گیس،کمپیوٹر،موبائیلز فونز،گاڑیاں اوران تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جو دوسرے ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ہمارے ملک کا ایک المیہ ہے کہ استعمال کی تمام اشیاء مہنگی کر دی جاتی ہیں لیکن لوگوں کی آمدنی میں مہنگائی کے لحاظ سے اضافہ نہیں کیا جاتا ہونا تو یہ چاہیئے کہ جتنی مہنگائی بڑھے اسی لحاظ سے آمدنی میں بھی اضافہ کر دیا جائے تا کہ ایک عام آدمی اس سے متاثر نہ ہو جب تک ملک کے قرضے ختم نہیں ہو جاتے اور ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک ملک کی معشیت بھی مظبوط نہیں ہو سکتی اور نہ ہی عام آدمی کامعیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے ۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں قرضے بھی ادا کرنا مشکل ہو سکتے ہیں بعض ماہرین ایسی صورت حال کو ناقص معاشی پالیسی یا منصوبہ بندی قرار دیتے ہیں یقیناً جس تیزی سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ ہماری معشیت کے لئے بھی کسی خطرہ سے کم نہیں ہے ہمیں اپنے روپے کی گرانی پر مکمل قابو پانے کی ضرورت ہے امید کرتے ہیں کہ آنے والی نئی حکومت سابقہ ادوار سے ضرور سبق سیکھے گی اور میرے پیارے وطن کو ترقی کی جانب بڑھانے میں اپنی پوری محنت اور دیانتداری سے کام کرے گی اللہ تعالیٰ میرے وطن کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین۔

 
Tabool ads will show in this div