عدالت نےراؤ انوارکی رہائی کاحکم دےدیا

انسداد دہشتگردی عدالت نے  راؤ انوار کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا۔

سماءکےمطابق راؤ انوارکی رہائی کےلیےجیل حکام کودونوں مقدمات میں ریلیز آرڈرز آج ہی بھجوا دیئے جائیں گے۔انسداددہشت گردی کی عدالت نےسابق ايس ايس پي ملزم راؤ انوار کی ضمانت پر رہائی کاحکم دیاتھا۔ ان کی دونوں مقدمات میں 10،10 لاکھ روپےکی ضمانت منظور ہوئي تھی۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کی دھماکا خیزاد مواد رکھنے کے کیس میں بھی ضمانت منظور کرلی تھی۔نقیب اللہ ماورائے عدالت قتل کیس کےمرکزی ملزم راؤ انوار کی اس سے قبل بھی عدالت نے ضمانت منظور کی تھی اور 10 لاکھ روپے زرضمانت کے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا لیکن غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے میں ضمانت نہ ہونے کے باعث انہیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔

واضح رہے کہ رواں برس13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔

بعد ازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور سوشل میڈیا پر واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی میڈیا اس جانب متوجہ ہوا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔

نقیب اللہ کے والد خان محمد نے واقعے کا مقدمہ درج کرایا تھا جس میں راؤ انوار کو نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کرکے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیاتھااور نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے کر پولیس افسر کی گرفتاری کی سفارش کی تھی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر از خود نوٹس لیا گیا تھا۔ ملزم راؤ انوار کچھ عرصے تک روپوش رہے تاہم 21 مارچ کو وہ اچانک سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے جہاں عدالت نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

RAO ANWAR

naqeeb ullah mehsood

Tabool ads will show in this div